محامد خاتم النبیین ﷺ و نذرانہء دُرود و سلام — Page 16
14 صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے اور ہر روز اپنے گناہوں کی معافی مانگتے اور استغفار کرنے میں مداومت اختیار کرے گا ۔ اور دلی محبت سے خُدا تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کر کے اُس کی حمد اور تعریف کو اپنا ہر روزہ ورد بنائے گا ۔ اشتهار ۱۲ جنوری شاه ) تلقین درود شریف ( درود شریف وہی بہتر ہے کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلا ہے اور وہ یہ ہے اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ۔ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔ جو الفاظ ایک پر ہیز گار کے منہ سے نکلتے ہیں اُن میں ضرور کسی قدر برکت ہوتی ہے ۔ پس خیال کر لینا چاہئیے کہ جو پرہیز گاروں کا سردار اور نبیوں کا سپہ سالار ہے اس کے منہ سے جو لفظ نکلے ہیں وہ کسی قدر بزرگ ہوں گے۔ غرض سب اقسام درود شریف سے یہی درود زیادہ مبارک ہے۔ یہی اس عاجزہ کا د مکتوبات احمدیہ جلد اول صفحه (۱۸) ورد ہے ۔