حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 511
۵۱۱ و بکار دیں نترسم از جهانی که دارم رنگ ایمان محمد ! یسے سہل ست از دنیا بریدن بیاد حسن احسان محمد ۲ فدا شد در رهش هر ذره من که دیدم حسن پنهان محمد سے دگر استاد نامی ندانم که خواندم دبستان محمد ہے بدیگر دلبری کاری ندارم که هستم کشته آن محمد ه مرا آن گوشته چشم باید نہ خواہم جز گلستان محمد 1 پہلوئم مجوئید که بستیمش را به در به بدامان محمد کے دل زارم من آن خوش مرغ از مرغان قدسم که وارد جا بستان محمد ۸ تو جان ما منوّر کردی از عشق فدایت جانم اے جان محمد 2 دریغا گر دہم صد جان درین راه نباشد نیز شایان محمد علی چه بیت با بدادند ایں جواں را که ناید کس به میدان محمد الله الا اے دشمن نادان و بے راہ از تیغ بران محمد ۱۲ علیم کے ایمان کا رنگ ہے۔ اور بترس صلى الله لے دین کے معاملہ میں میں سارے جہان سے بھی نہیں ڈرتا کہ مجھ میں محمد علی کے دنیا سے قطع تعلق کرنا نہایت آسان ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن واحسان کو یاد کر کے۔ سے اس کی راہ میں میرا ہر ذرہ قربان ہے کیونکہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مخفی حسن دیکھ لیا ہے۔ میں اور کسی استاد کا نام نہیں جانتا میں تو صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مدرسہ کا پڑھا ہوا ہوں ۔ اور کسی محبوب سے مجھے واسطہ نہیں کہ میں تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ناز و ادا کا مقتول ہوں ۔ مجھے تو اسی آنکھ کی نظر مہر درکار ہے۔ میں محمد علی کے باغ کے سوا اور کچھ نہیں چاہتا۔ کے مرے زخمی دل کو میرے پہلو میں تلاش نہ کرو کہ اسے تو ہم نے محمد ﷺ کے دامن سے باندھ دیا ہے۔ میں طائران قدس میں سے وہ اعلیٰ پرندہ ہوں جو محمد علی ہوں جو محمد علی کے باغ میں بسیرا رکھتا ہے۔ تو نے عشق کی وجہ سے ہماری جان کو روشن کر دیا اے محمد عا تجھ پر میری جان فدا ہو۔ م اگر اس راہ میں سو جان سے قربان ہو جاؤں تو بھی افسوس رہے گا کہ یہ محمد ﷺ کی شان کے شایاں نہیں۔ الے اس جوان کو کس قدر رعب دیا گیا ہے کہ محمد ﷺ کے میدان میں کوئی بھی ( مقابلہ پر ) نہیں آتا۔ اے نادان اور گمراہ دشمن ہوشیار ہو جا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کاٹنے والی تلوار سے ڈر۔ صلى الله صلى الله