حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 512
۵۱۲ ره مولی که گم کردند مردم بجو در آل و اعوان محمد اے L الا اے منکر از شانِ محمدؐ ہم کرامت گرچه بے نام و نشان است بیا بنگر از نور نمایان محمد ۲ ز غلمان محمد سے (اشتہار ۲۰ رفروری ۱۸۹۳ء صفحه ا، سراج منیر صفحہ ۱۲۰۱۱۔ آئینہ کمالات اسلام ۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶۴۹ ۔ مجموعه اشتہارات جلد اول صفحه ۳۰۳ تا ۳۰۵ بار دوم ) آں رسولی کش محمد بست نام دامن پاکش بدست ما مدام " مهر او با شیر شد اندر بدن هست او خیر الرسل خیر الانام جان شد و با جان بدر خواهد شدن ۵ ہر نبوت را برو شد اختتام 1 ما ازو نوشیم ہر آبے کہ ہست زو شده سیراب سیرابے کہ ہست کے آن نه از خود از ہماں جائے بود ۸ آنچه ما را وحی ما از و ایمائی بود و یا بیم ہر نور و کمال وصل دلدار ازل بے او محال 2 اقتدائے قول او در جان ما است هرچه زو ثابت شود ایمان ماست ما (سراج منیر، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۹۵) لے خدا کے اس راستہ کو جسے لوگوں نے بھلا دیا ہے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آل اور انصار میں ڈھونڈ ۔ ے خبردار ہو جا! اے وہ شخص جو محمد ﷺ کی شان نیز محمد ﷺ کے چمکتے ہوئے نور کا منکر ہے۔ اگر چه کرامت اب مفقود ہے۔ مگر تو آ اور اسے محمد ﷺ کے غلاموں میں دیکھ لے۔ ہے وہ رسول جس کا نام محمد ہے اس کا مقدس دامن ہر وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اس کی محبت ماں کے دودھ کے ساتھ ہمارے بدن میں داخل ہوئی وہ جان بن گئی اور جان کے ساتھ ہی باہر نکلے گی۔ وہی خیر الرسل اور خیر الا نام ہے اور ہر قسم کی نبوت کی تکمیل اُس پر ہو گئی۔ کے جو بھی پانی ہے وہ ہم اسی سے لے کر پیتے ہیں جو بھی سیراب ہے وہ اسی سے سیراب ہوا ہے۔ جو وحی والہام ہم پر نازل ہوتا ہے وہ ہماری طرف سے نہیں وہیں سے آتا ہے۔ ہم ہر روشنی اور ہر کمال اسی سے حاصل کرتے ہیں محبوب از لی کا وصل بغیر اس کے ناممکن ہے۔ ملے اس کے ہر ارشاد کی پیروی ہماری فطرت میں ہے جو بھی اس کا فرمان ہے اس پر ہمارا پورا ایمان ہے۔ -