حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 510
۵۱۰ ز ظلمتها دلے آنگه شود صاف عجب نوریست در جان محمد عجب العلیست در کان محمد ! L که گردد از محبان محمد ۲ تابند از خوان محمد سے در دو رو عجب دارم دل آن ناکسان را که ندانم بیچ نفسی عالم که دارد شوکت و شان محمد " خدا زاں سینہ بیزارست صد بار که هست از کینه داران محمد ۵ خدا خود سوزد آن کرم دنی را که باشد از عدوان محمد 1 اگر خواہی نجات از مستی نفس بیا در ہست ذیل مستان محمد کے اگر خواهی که حق گوید ثنایت بشو از دل ثنا خوان محمد ۸ اگر خواہی دلیلی عاشقش باش محمد برہان محمد 2 سرے دارم فدائے خاک احمد دلم وقت قربان محمد علی بگیسوئے رسول اللہ کہ ہستم شمار تابان محمد الله نتابم رو ز ایوان محمد ۱۲ دریں رہ گر کشندم در بسوزند ہر روئے اے محمد ﷺ کی جان میں ایک عجیب نور ہے۔ محمد ﷺ کی کان میں ایک عجیب و غریب لعل ہے۔ ے دل اس وقت ظلمتوں سے پاک ہوتا ہے جب وہ محمد ﷺ کے دوستوں میں داخل ہو جاتا ہے۔ سے میں ان نالایقوں کے دلوں پر تعجب کرتا ہوں جو محمد علی کے دستر خوان سے منہ پھیرتے ہیں۔ کے دونوں جہان میں میں کسی شخص میں میں کسی شخص کو نہیں جانتا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سی شان و شوکت رکھتا ہو۔ ۵ خدا اس شخص سے سخت بیزار ہے جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے کینہ رکھتا ہو۔ خدا خود اس ذلیل کیڑے کو جلا دیتا ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں میں سے ہو۔ کے اگر تو نفس کی بدمستیوں سے نجات چاہتا ہے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مستانوں میں سے ہو جا۔ اگر تو چاہتا ہے کہ خدا تیری تعریف کرے تو نہ دل سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مدح : خواں بن جا۔ 2 اگر تو اس کی سچائی کی دلیل چاہتا ہے تو اس کا عاشق بن جا کیونکہ محمد ﷺ ہی خود محمد کی دلیل ہے۔ صلى الله صلى الله میرا سر احمد علی کی خاک پا پر شار ہے اور میرا دل ہر وقت محمد علی پر قربان رہتا ہے۔ ال رسول اللہ کی زلفوں کی قسم کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نورانی چہرے پر فدا ہوں ۔ ۱۲ اس راہ میں اگر مجھے مجھے قتل کر دیا جائے یا جلا دیا جاوے تو پھر بھی میں محمد علی کی بارگاہ سے منہ نہیں پھیروں گا۔ صلى ال