حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 509 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 509

۵۰۹ ہر کسے دارد سرے با دلبرے اندر جہان من فدائے روئے تو اے دلستان گلعذار اے از همه عالم دل اندر روئے خوبت بسته ام بر وجود خویشتن کردم وجودت اختیار ۲ زندگانی چیست جان کردن براه تو فدا رستگاری چیست در بند تو بودن صید دار سے تا وجودم هست خواهد بود عشقت در دلم تا دلم دوران خون دارد به تو دار و مدار ۲ یا رسول الله برویت عهد دارم استوار عشق تو دارم از ان روز یکه بودم شیر خوار ۵ ہر قدم کاندر جناب حضرت بیچون زدم دیدمت پنہاں معین و حامی و نصرت شعار 1 در دو عالم نسبتی دارم بتو از بس بزرگ پرورش دادی مرا خود ہمچو طفلی در کنار کے یاد کن وقتیکه در کشتم نمودی شکل خویش یاد کن هم وقت دیگر کاآمدی مشتاق دار ۸ یاد کن آن لطف و رحمت با که با من داشتی و آن بشارت ها که میدادی مرا از کردگار 2 یاد کن وقتے چو بنمودی به بیداری مرا آن جمالی آن رنے آن صورتے رشک بہار ملے آنچه مو ما را از دو شیخ شوخ آزاری رسید یا رسول الله بپرس از عالم ذوالاقتدار 1 آئینہ کمالات اسلام - روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۳ تا ۲۸) لے ہر شخص دنیا میں کوئی نہ کوئی محبوب رکھتا ہے مگر میں تو تیرا فدائی ہوں اے پھول سے رخساروں والے محبوب۔ ے سارا جہان چھوڑ کر میں نے تیرے حسین چہرہ سے دل لگایا ہے اور اپنے وجود پر تیرے وجود کو تر جیح دی ہے۔ سے زندگی کیا ہے؟ یہی کہ تیری راہ میں جان کو قربان کر دینا ۔ آزادی کیا ہے؟ یہی کہ تیری قید میں شکار بن کر رہنا۔ ے جب تک میرا وجود باقی ہے تیرا عشق میرے دل میں رہے گا جب تک میرے دل میں خون دورہ کرتا ہے تب تک اس کا دار و مدار تجھ پر ہے ۔ یا رسول اللہ میں تجھ سے مضبوط تعلق رکھتا ہوں اور اس دن سے کہ میں شیر خوار تھا مجھے تجھ سے محبت ہے۔ جو قدم بھی میں نے خدائے بے ہمتا کی راہ میں مارا میں نے پوشیدہ طور پر ہر جگہ تجھے اپنا معین حامی اور مدد گار دیکھا۔ کے دونوں جہانوں میں میں تجھ سے بے انتہا تعلق رکھتا ہوں تو نے خود بچے کی طرح اپنی گود میں میری پرورش فرمائی۔ وہ وقت یاد کر کہ جب تو نے کشف میں مجھے اپنی صورت دکھائی تھی اور ایک اور موقع بھی یاد کر جب تو میرے پاس مشتاقانہ تشریف لایا تھا ۔ 2 ان مہربانیوں اور رحمتوں کو یاد کر جو تو نے مجھ پر کیں اور ان بشارتوں کو بھی جو خدا کی طرف سے تو مجھے دیتا تھا۔ ا وہ وقت یاد کر جب بیداری میں تو نے مجھے دکھایا تھا اپنا وہ جمال، وہ چہرہ اور وہ صورت جس پر موسم بہار بھی رشک کرتا ہے۔ الے جو کچھ ہم کو ان دو موذی شیخوں سے تکلیف پہنچی اے رسول اللہ ! اس کا حال اس قادر اور علیم خدا سے پوچھ لے۔