حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 505
۵۰۵ مظہر نورے کہ پنہاں بود از عہدِ ازل مطلع شمسی که بود از ابتدا در استتار لے صدر بزم آسمان و حجة الله برز میں ذات خالق را نشانے بس بزرگ و استوار ۲ ہر رگ و تار وجودش خانه یار ازل هر دم و هر ذره اش پر از جمال دوستدار سے حسن روئے او به از صد آفتاب و ماہتاب خاک کوئ او به از صد نافہ مشک تیار ہے هست او از عقل و فکر و وہم مردم دورتر کے مجالِ فکر تا آں بحر ناپیدا کنار ۵ روح او در گفتن قول بلی اول کسے آدم توحید و پیش از آدمش پیوند یار 1 جان خود دادن پئے خلق خدا در فطرتش جاں شار خستہ جاناں بے دلاں را غمگسار کے اندر آں وقتیکہ دنیا پر از شرک و کفر بود هیچ کس را خوں نہ شد دل جز دل آن شہر یار ۸ هیچ کس از حبت شرک و ر جس بت آگه نشد این خبر شد جان احمد را که بود از عشق زار 2 کس چه میداند کرا زاں نالہ ہا باشد خبر کال شفیعی کرد از بہر جہاں در گنج غار ملے من نمی دانم چه دردی بود و اندوه و غمے کا ندراں غاری در آوردش حزین و دلفگار اے لے وہ اس نور کا مظہر ہے جو روز ازل سے مخفی تھا اور اس سورج کے نکلنے کی جگہ ہے جو ابتدا سے نہاں تھا۔ ہے وہ آسمانی مجلس کا میر مجلس اور زمین پر اللہ کی حجت ہے نیز ذات باری کا عظیم الشان مضبوط نشان ہے۔ سے اس کے وجود کا ہر رگ وریشہ خداوند از لی کا گھر ہے اس کا ہر سانس اور ہر ذرہ دوست کے جمال سے منور ہے۔ ہے اس کے چہرہ کا حسن سینکڑوں جے سینکڑوں چاند اور سورج سے بہتر ہے اس کے کوچہ کی خاک تا تاری مشک کے سینکڑوں نافوں سے زیادہ خوشبودار ہے ۔ وہ لوگوں کی عقل و سمجھ سے بالاتر ہے فکر کی کیا ؟ ہے فکر کی کیا مجال کہ اُس نا پیدا کنار سمندر کی حد تک پہنچ سکے۔ قول بلی کہنے میں اس کی روح سب سے اول ہے وہ توحید کا آدم ہے اور آدم سے بھی پہلے یار سے اس کا تعلق تھا۔ ه وه کے مخلوق الہی کے لئے جان دینا اس کی فطرت میں ہے وہ شکستہ دلوں کا جان نثار اور بیکسوں کا ہمدرد ہے۔ ایسے وقت میں جبکہ دنیا کفر و شرک سے بھر گئی تھی سوائے اس بادشاہ کے اور کسی کا دل اس کے لئے غمگین نہ ہوا۔ کوئی بھی شرک کی نجاست اور بتوں کی گندگی سے آگاہ نہ تھا صرف احمد کے دل کو یہ آگاہی ہوئی جو محبت الہی سے چور تھا۔ نا کون جانتا ہے اور کیسے اس آہ وزاری کی خبر ہے؟ جو آنحضرت نے دنیا کے لئے غار حرا میں کی ۔ میں نہیں جانتا کہ کیا درد، غم اور تکلیف تھی جو اسے غم زدہ کر ۔ جو اسے غم زدہ کر کے اس غار میں لاتی تھی۔ ال میں اشارہ سوۓ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى۔