حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 504 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 504

۵۰۴ آنکه مهرش می رساند تا سما ے دہد فرعونیاں را ہر زماں میکند چون ماه تاباں در صفا کے چو ید بیضائے موسیٰ صد نشاں ہے ( براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد اصفحه ۶۲۷ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) چوں ز من آید ثنائے سرور عالی تبار عاجز از مدحش زمین و آسمان و هر دو دار ۳ آں مقام قرب کو دارد بدلدار قدیم کس نداندشان آن از واصلان کردگار ۴ آں عنایت ہا کہ محبوب ازل دارد بدو کس بخوابے ہم ندیده مثل آن اندر دیار ۵ سرور خاصان حق شاہ گروه عاشقاں آنکه روحش کرد طے ہر منزل وصل نگار ۔ آں مبارک ہے کہ آمد ذات با آیات او رحمت زاں ذات عالم پرور و پروردگار کے آں کہ دارد قرب خاص اندر جناب پاک حق آنکه شان او نفهمد کس ز خاصان و کبار ۸ 9 احمد آخر زماں کو اولیس را جائے فخر آخریں را مقتدا و ملجا و کیف و حصار بست درگاه بزرگش کشتی عالم پناہ کس نه گردد روز محشر جز پناہش رستگار ملے از ہمہ چیزے فزوں تر درہمہ نوع کمال آسمانها پیش اوج ہمت او ذره وار ال لے وہ کہ جس کی محبت آدمی کو آسمان تک پہنچاتی ہے اور صفائی میں چھپکتے ہوئے چاند کی طرح بنا دیتی ہے۔ ہے وہ نبی فرعونی لوگوں کو ہر وقت دکھاتا ہے موسیٰ کے ید بیضا کی طرح سینکڑوں نشانات ۔ سے مجھ سے اس عالی قدر سردار کی تعریف کس طرح ہو سکے جس کی مدح سے زمین و آسمان اور دونوں جہان عاجز ہیں۔ قرب کا وہ مقام جو وہ محبوب ازلی کے ساتھ رکھتا ہے اس کی شان کو واصلان بارگاہ الہی میں سے بھی کوئی نہیں جانتا۔ وہ مہربانیاں جو محبوب از لی اس پر فرماتا رہتا ہے۔ وہ کسی نے دنیا میں خواب میں بھی نہیں دیکھیں ۔ خاصان حق کا سردار اور عاشقان الہی کی جماعت کا بادشاہ ہے جس کی روح نے محبوب کے وصل کے ہر درجہ کو طے کر لیا ہے۔ کے وہ مبارک قدم جس کی ذار ذات والا صفات رحمت بن کر اس رب العالمین پروردگار کی طرف سے نازل ہوئی ۔ وہ جو کہ جناب الہی میں خاص قرب رکھتا ہے وہ جس کی شان خواص اور بزرگ بھی نہیں سمجھتے۔ احمد آخر الزمان جو پہلوں کے لئے فخر کی جگہ ہے اور پچھلوں کے لئے پیشوا ۔ مقام پناہ جائے حفاظت اور قلعہ ہے۔ ملے اس کی عالی بارگاہ سارے جہان کو پناہ دینے والی کشتی ہے حشر کے دن کوئی بھی اس کی پناہ میں آنے کے بغیر نجات نہیں پائے گا ۔ الے وہ ہر قسم کے کمالات میں ہر ایک سے بڑھ کر ہے اس کی بلندی ہمت کے آگے آسمان بھی ایک ذرہ کی طرح ہیں۔