حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 506 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 506

۵۰۶ نے ز تاریکی توحش نے ز تنہائی ہراس نے زمر دن غم نہ خوف کر دے نے بیم مار لے کشتہ قوم و فدائے خلق و قربان جہاں نے بجسم خویش میلش نے بنفس خویش کار ہے نعرہ ہا پر درد مے زد از پئے خلق خدا شد تضرع کار او پیش خدا لیل و نہار سے سخت شورے بر فلک اوفتاد زاں عجز و دعا قد سیال را نیز شد چشم از غم آں اشکبار ہے آخر از عجز و مناجات و تضرع کردنش شد نگاه لطف حق بر عالم تاریک و تار ۵ در جهان از معصیت ها بود طوفان عظیم بود خلق از شرک و عصیاں کو روکر در هر دیار 1 ہمچو وقت نوح دنیا بود پُر از هر فساد پیچ دل خالی نبود از ظلمت و گرد و غبار کے مرشیاطین را تسلط بود بر هر روح و نفس پس تجلی کرد بر روحِ محمد کردگار ۸ منت او بر ہمہ سُرخ و سیا ہے ثابت است آنکہ بہر نوع انساں کرد جان خود شار 2 یا نبی اللہ توئی خورشید رہ ہائے ہوئی ہے تو نآرد رو برا ہے عارف پرہیز گار ملے یا نبی اللہ لب تو چشمه جان پرور است یا نبی اللہ توئی در راه حق آموزگار اے آن یکی جوید حدیث پاک تو از زید و عمرو و آن دگر خود از دهانت بشنود بے انتظار ۱۲ لے نہ اسے اندھیرے کا خوف تھا نہ تنہائی کا ڈر نہ مرنے کاغم نہ سانپ بچھو کا خطرہ۔ ہے وہ کشتہ قوم فدائے خلق اور اہل جہاں پر قربان تھا نہ اسے اپنے تن بدن سے کچھ تعلق تھا نہ اپنی جان سے کچھ کام ۔ سے خدا کی مخلوق کے لئے دردناک آہیں بھرتا تھا اور خدا کے سامنے رات دن گریہ وزاری اس کا کام تھا ۔ ہے۔ اس کے عجز و دعا کی وجہ سے آسمان پر سخت شور برپا ہو گیا اور اس کے غم کی وجہ سے فرشتوں کی آنکھیں بھی غم سے اشکبار ہوگئیں ۔ ۵۔ آخر کار اس کی عاجزی مناجات اور گریہ وزاری کی وجہ سے خدا نے تاریک و تار دنیا پر مہربانی کی نظر فرمائی۔ جہان میں بد عملیوں کا خطرناک طوفان بپا تھا اور ہر ملک میں لوگ شرک اور گناہوں کے مارے اندھے اور بہرے ہو رہے تھے ۔ کے دنیا نوح کے زمانہ کی طرح ہر قسم کے فسادوں سے بھر گئی تھی کوئی دل بھی ظلمت اور گرد و غبار سے خالی نہ تھا۔ ہر روح اور ہر نفس پر شیاطین کا قبضہ تھا تب خدا تعالی نے محمد کی روح پر تجلی فرمائی۔ 2 تمام گوری اور کالی قوموں پر اس کا احسان ثابت ہے اس نے نوع انسانی کے لئے اپنی جان قربان کر دی۔ م اے نبی اللہ ! تو ہی ہدایت کے راستوں کا سورج ہے تیرے بغیر کوئی عارف پر ہیز گار ہدایت نہیں پا سکتا۔ الے اے نبی اللہ ! تیرے ہونٹ زندگی بخش چشمہ ہیں۔ اے نبی اللہ ! تو ہی خدا کے راستہ کا رہنما ہے۔ ایک تو تیری پاک باتیں زید و عمر کے پاس جا کر تلاش کرتا ہے اور دوسرا بلا توسط تیرے منہ سے ان کو سنتا ہے۔