حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 329 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 329

۳۲۹ بس ہماں شد آنچه آن دادار خواست کار دستش شاهد گفتار خاست لے مشرکان وانچه پوزش می کنند این گواهان تیر دوزش می کنند ۲ گر بگوئی غیر را رحمان خدا تف زند بر روئے تو ارض و سما سے تراشی بهر آن یکتا پسر بر تو بارد لعنت زیر و زبر ہے با زبان حال گوید این جهان کال خدا فردست و قیوم و یگان ۵ ور نے پدر دارد نه فرزند و نه زن یک دمے گر رشح فیضش کم شود یک نظر قانون قدرت را ببین نے مبدل شد از ایام کهن ؟ این همه خلق و جهان برہم شود کے تا شناسی شان رب العالمین ۸ (ضیاء الحق ۔ روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۲۵۱ ۲۵۲) اے خالق ارض و سما برمن در رحمت کشا دانی تو آن درد مراکز دیگراں پنہاں کنم 2 از بس لطیفی دلبرا در هر رگ و تارم درا تا چون بخود یا بم ترا دل خوشتر از بستان کنم ۱۰ در سرکشی اے پاک خو جاں بر کنم در ہجر تو ز انساں ہمی گریم کز و یک عالمے گریاں کنم ! خواہی قہرم کن جدا خواہی بلطفم رونما خواهی بکش یا کن رہا کے ترک آن دامان کنم ۱۲ ( براہین احمد یہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد اصفحه ۶۱۳ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) لے بس وہی ہوا جو اس خدا کا منشا تھا اور اس کا کام اس کے کلام کا گواہ قرار پایا۔ کے مشرک لوگ جو بہانے کرتے ہیں یہ گواہ ( قول خدا اور فعل خدا ) ان عذرات کو تیروں سے چھلنی کر دیتے ہیں۔ اگر تو کسی اور کو خدائے رحمان کر دے تو تیرے منہ پر زمین و آسمان تھوکیں۔ ہے اور اگر اس یکتا کے لیے تو کوئی بیٹا تجویز کرے تو نیچے اور اوپر سے تجھ پر لعنتیں برسنے لگیں۔ ھے یہ جہان زبان حال سے یہ کہہ رہا ہے کہ وہ خدا یکتا قیوم اور واحد ہے۔ نہ اس کا کوئی باپ ہے نہ بیٹا اور نہ بیوی اور نہ ازل سے اس میں کوئی تغیر آیا۔ کے اگر ایک لحظہ کے لیے بھی اس کے فیض کی بارش کم ہو جائے تو یہ سب مخلوقات اور جہان درہم برہم ہو جائیں ۔ قانون قدرت پر ایک نظر ڈال تا کہ تو رب العالمین کی شان کو پہچانے۔ 2 اے خالقِ ارض و سما ! مجھ پر در رحمت کھول تو میرے اس درد کو جانتا ہے جسے میں اوروں سے چھپاتا ہوں ۔ نا اے دلبر تو بیحد لطیف ہے میرے ہر رگ و ریشہ میں داخل ہو جاتا کہ جب تجھے اپنے اندر پاؤں تو اپنا دل چمن سے بھی زیادہ خوشتر کروں ۔ الے اور اے نیک صفات اگر تو انکار کرے تو تیرے فراق میں جان دے دوں گا اور اتنا روؤں گا کہ ایک عالم کو رلا دوں گا۔ خواہ تو تو مجھے ناراض ہو کر جدا کر دے خواہ لطف فرما کر اپنا چہرہ دکھا دے خواہ ماریا چھوڑ میں تیرے دامن کو نہیں چھوڑ سکتا۔