حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 328 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 328

۳۲۸ حمد و شکر آن خدائے کردگار کز وجودش ہر وجودے آشکار ہے ذره ذره این جهان آئینہ دار روئے او در آئینہ ارض و سما کرد ہر گیا ہے عارف بنگاه او نور مهر و مه ز فیض نور اوست ہر سرے سرے ز خلوت گاہِ اُو دست ره نماید سوئے او ۲ آن رخ بے مثل خود جلوہ نما سے ہر شاخ نماید راه او کے ہر ظہورے تابع منشور اوست ۵ ہر قدم جوید با جاه أو ت مطلب ہر دل جمال روئے اوست گر ہی گر هست بہر کوئی اوست کے صد هزاران کرد صنعت با پدید مهر و ماه و انجم و خاک آفرید این همه صنعش کتاب کار اوست این کتابی پیش چشم ما نهاد تا شناسی آن خدائے پاک را تا شود معیار بهر وحی تا خیانت را نماند هیچ راه دوست در A بے نہایت اندرین اسرار اوست 2 تا از و راہ ہدی داریم یاد ن خاک را " کو نماند خاکیان و تا شناسی از هزاران آنچه زوست ۳ تا جدا گردد سفیدی از سیاه ۱۳ لیے اس خدائے کردگار کی حمد اور شکر واجب ہے جس کے وجود سے ہر چیز کا وجود ظاہر ہوا ۔ ہے یہ جہاں اس کے چہرے کے لئے آئینہ کی طرح ہے ذرہ ذرہ اسی کی طرف راستہ دکھاتا ہے۔ سے اس نے زمین و آسمان کے آئینہ میں اپنا بے مثل چہرہ دکھلا دیا۔ ہے گھاس کا ہر پتہ اس کے کون و مکان کی معرفت رکھتا ہے اور درختوں کی ہر شاخ اسی کا راستہ دکھاتی ہے۔ ھے چاند اور سورج کی روشنی اسی کے نور کا فیضان ہے ہر چیز کا ظہور اسی کے شاہی فرمان کے ماتحت ہوتا ہے۔ ہر سر اس کے اسرار خانہ کا ایک بھید ہے اور ہر قدم اسی کا با عظمت دروازہ تلاش کرتا ہے۔ کے اسی کے منہ کا جمال ہر ایک دل کا مقصود ہے اور کوئی گمراہ بھی ہے تو وہ بھی اسی کے کوچہ کی تلاش میں ہے۔ اس نے چاند سورج ستارے اور زمین کو پیدا کیا اور لاکھوں صنعتیں ظاہر کر دیں۔ 2 9 اس - اس کی یہ تمام صناعیاں اس کی کاریگری کا دفتر ہیں اور ان میں اس کے بے انتہا اسرار ہیں۔ ملے یہ نیچر کی کتاب اس نے ہماری آنکھوں کے سامنے رکھ دی تا کہ اس کی وجہ سے ہم ہدایت کا راستہ یا درکھیں ۔ الے تا کہ تو اس خدائے پاک کو پہچانے جو دنیا والوں اور دنیا سے کوئی مشابہت نہیں رکھتا۔ تا کہ خدا کی وحی کے لئے یہ بطور معیار کے ہوتا کہ تو ہزاروں کلاموں میں سے پہچان لے کہ کونسا اس کی طرف سے ہے۔ ۱۳ تا کہ خیانت کا کوئی راستہ کھلا نہ رہے اور نور تاریکی سے الگ ہو جائے ۔