حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 330
۳۳۰ ہر بار ما اے خدا اے چارہ آزار ما اے تو مرہم بخش جان ریش ما از کرم برداشتی و ستاری از جود و کرم بنده در مانده باشد دل طپان عاجزی را ظلمتی گیرد براه حافظ در زار ما اے علاج گریہ ہائے اے تو دلدار دل غم کیش ما ۲ و از تو هر بار و بر اشجار ماسی بے کسان را یاری از لطف اتم ؟ نا گهان درمان برآری از میان ۵ نا گہان آری برو صد مهر و ماه ۲ حسن و خلق دلبری بر تو تمام صحبتی بعد از لقائے تو حرام کے آن خرد مندی که او دیوانه ات شمع بزم است آنکه او پروانه ات A هر که عشقت در دل و جانش فتد ناگهان جانے ایمانش فتد 2 عشق تو گردد عیاں ہر روئے او ہوئے تو آید ز بام و کوئے او نا صد هزاران نعمتش بخشی از جود مهر و مه را پیشش آری در سجود اله خود نشینی پئے تائید او روئے تو یاد اوفتد از دید او ۱۲ بس نمایان کا رہا کاندر جهان می نمائی بہر اکرامش عیان ۱۳ لے اے خدا ! اے ہمارے دکھوں کی دوا ۔ اور اے ہماری گریہ وزاری کا علاج ۔ ے تو ہماری زخمی جان پر مرہم رکھنے والا ہے۔ اور تو ہمارے غمزدہ دل کی دلداری کرنے والا ہے۔ سے تو نے اپنی مہربانی سے ہمارے سب بوجھ اٹھا لیے ہیں اور ہمارے درختوں پر میوہ اور پھل تیرے فضل سے ہے۔ ہے تو ہی مہربانی اور عنایت سے ہمارا محافظ اور پردہ پوش ہے اور کمال مہربانی سے بے کسوں کا ہمدرد ہے۔ جب بندہ مغموم اور درماندہ ہو جاتا ہے تو تو وہیں سے اس کا علاج پیدا کر دیتا ہے۔ جب کسی عاجز کو رستے میں اندھیرا گھیر لیتا ہے تو تو یکدم اس کے لیے سینکڑوں سورج اور چاند پیدا کر دیتا ہے۔ کے حسن واخلاق اور دلبری تجھ پرختم ہیں تیری ملاقات کے بعد پھر کسی سے تعلق رکھنا حرام ہے۔ وہ عقلمند ہے جو ترادیوانہ ہے اور وہ شمع بزم ہے جو تیرا پر 2 ہر وہ شخص جس کے جان و دل میں تیرا عشق داخل ہو جائے تو اس کے ایمان میں فوراً جان پڑ جاتی ہے۔ ۔ از پروانہ ہے۔ نا تیرا عشق اس کے چہرہ پر ظاہر ہو جاتا ہے اور اس کے درودیوار سے تیری خوشبو آتی ہے۔ الے تو اس کو اپنے کرم سے لاکھوں نعمتیں بخشتا ہے سورج اور چاند کو اس کے سامنے سجدہ کرواتا ہے۔ ۱۲ تو اس کی نصرت کے لیے خود تیار ہو جاتا ہے اور اس کے دیدار سے تیرا چہرہ یاد آتا ہے۔ اس جہاں میں بہت سے نمایاں کام تو اس کی عزت کے لیے ظاہر کرتا ہے۔