حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 327
۳۲۷ اک مطلب کو پایا یہ دلبر سمایا تجھے سب زور و قدرت ہے خدایا تجھے پایا ہر ہر اک عاشق نے ہے اِک بُت بنایا ہمارے دل میں وہی آرام جاں اور دل کو بھایا وہی جس کو کہیں رَبُّ البرایا ظاہر بالا یا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْاعَادِي ہوا وہ مجھ پر وہی جنت وہی دارالاماں ہے مجھے اس یار سے پیوند جاں ہے بیاں اس کا کروں طاقت کہاں ہے محبت کا تو اک دریا رواں ہے یہ کیا احسان ہیں تیرے میرے ہادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي تری نعمت کی کچھ قلت نہیں ہے تہی اس سے کوئی ساعت نہیں ہے شمار فضل اور رحمت نہیں ہے مجھے اب شکر کی طاقت نہیں ہے یہ کیا احساں ترے ہیں میرے ہادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي ترے کوچہ میں کن راہوں سے آؤں وہ خدمت کیا ہے جس سے تجھ کو پاؤں کھینچا جاؤں خدائی ہے خودی جس محبت ہے کہ جس سے محبت چیز کیا ، کس کو بتاؤں وفا کیا راز سے جلاؤں ہے کس کو سناؤں میں اس آندھی کو اب کیونکر چھپاؤں یہی بہتر کہ خاک اپنی اڑاؤں کہاں ہم اور کہاں دنیائے مادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي بشیر احمد شریف احمد اور مبارکہ کی آمین مطبوعہ ۱۹۰۱ ء در ثمین صفحه ۵۴ شائع کردہ نظارت اشاعت ربوه )