مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 574 of 632

مسیحی انفاس — Page 574

۵۷۴ مجھے خیال آتا ہے کہ حضرت مسیح نے جب دیکھا کہ صلیب کا واقعہ ملنے والا نہیں تو ان کو اس امر کا بہت ہی خیال ہوا کہ یہ موت لعنتی موت ہوگی پس اس موت سے بچنے کے لئے انہوں نے بڑی دعا کی۔ دل بریاں اور چشم گریاں سے انہوں نے دعا کرنے میں دعاکی۔ سے مسیح اول اور مسیح آخری کوئی کسی نہیں چھوڑی۔ آخر وہ دعا قبول ہو گا عا قبول ہو گئی چنانچہ لکھا ہے فسمع لتقوا : ۔ ہم کہتے ہیں کہ جیسے پہلے مسیح کی دعاسنی گئی ہماری بھی سنی جاوے گی مگر ہماری دعا اور مسیح کی دعائیں فرق ہے۔ اس کی دعا اپنی موت سے بچنے کے لئے تھی اور ہماری دعا دنیا کو موت سے بچانے کے لئے ۔ ہماری غرض اس دعا سے اعلائے کلمۃ الاسلام ہے۔ احادیث میں بھی دعا ۴۱۲ آیا ہے کہ آخر مسیح ہی کی دعا سے فیصلہ ہو گا۔ ملفوظات جلد ۶ صفحه ۳۲۸،۳۲۷۔ پھر عیسائیوں کے بپتسمہ دینے کے وقت جو پانی وغیرہ چھڑ کا جاتا ہے اور بعض ان کے فرقے اس وقت نئے دیندار کو ایک چھوٹے سے حوض میں دھگا دیدیتے ہیں۔ اس بینہ کے وقت پانی کا استعمال ۲۱۳ کے ذکر پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ : پانی کا لحاظ تو ہر ایک نے رکھتا ہے ۔ ان لوگوں نے تالاب وغیرہ رکھا ہے اور قرآن نے گریہ و بکا کا پانی رکھا ہے وہ ظاہر پر گئے ہیں اور قرآن شریف حقیقت پر گیا ہے جیسے تَرَى أَعْيُنَهُمُ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ - ملفوظات جلد ۴ صفحه ۱۰۶,۱۰۵ حضرت صاحب زادہ مبارک احمد سلمہ اللہ الاحد کے ایک کبوتر کو بلی نے پکڑا جو ذبح عیسائیوں کا خدا ذبح کر لیا گیا۔ فرمایا کہ : وت اور کھایاجاتا ہے اس وقت میرے دل میں تحریک ہوئی کہ گویا عیسائیوں کے خدا کو ہم نے ذبح کر کے ۴۱۴ کا وقت میرے دل تحرک ہوئی کہ گویا کے خدا کوہم نے ذبح کر کے کھا لیا ہے، پھر فرمایا کہ انگریز بھی کبوتر کا شکار کرتے ہیں۔ یا اور بنی اسرائیل کی قربانیوں میں بھی شاید اس کا تذکرہ ہے بہر حال کبوتر ہمیشہ کھائے جاتے ہیں۔ یا دوسرے لفظوں میں یہ کہو کہ عیسائیوں کے خدا ذبح ہوتے ہیں۔ کیا یہ بھی کفارہ تو نہیں ہے۔ ملفوظات جلد ۳ صفحه ۳۳۱ یہ ذکر جو انجیل متی باب پچیس (۲۵) آیت ۳۱ سے ۴۶ تک ہے۔ جب ابن آدم