مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 543 of 632

مسیحی انفاس — Page 543

ولد میں ہیں جیسا کہ حضرت عیسیٰ نے دعوی کیا تھا کہ میں یہود کا بادشاہ ہوں اور اس دعوی پر روم کی گور نمنٹ میں مخبری ہوئی کہ یہود تو سلطنت رومیہ کے ماتحت ہیں مگر یہ شخص دعوی کرتا ہے کہ یہود میری رعایا ہیں اور میں ان کا بادشاہ ہوں۔ اس پر جب گورنمنٹ رومی نے جواب طلب کیا تو آپ نے فرمایا کہ میری بادشاہی اس جہان کی نہیں بلکہ بادشاہی سے مراد آسمان کی بادشاہت ہے۔ اب دیکھئے کہ ابتداء میں خود حضرت عیسی کا خیال تھا کہ مجھے زمین کی بادشاہت ملے گی اور اسی خیال پر ہتھیار بھی خریدے گئے تھے مگر آخر کار وہ آسمان کی بادشاہت نکلی پس کیا بعید ہے کہ زلزلہ سے مراد بھی ان کی کوئی آسمانی امر ہی ہو۔ ورنہ زمین شام میں تو ہمیشہ زلزلے آتے ہی ہیں۔ ایسی زمین کے متعلق زلزلہ کی پیش گوئی کرنا ایک مخالف کی نظر میں تمسخر کی جگہ ہے۔ ایسا ہی حضرت عیسیٰ نے فرمایا تھا کہ میرے بارہ حواری بارہ تختوں پر بہشت میں بیٹھیں گے۔ یہ پیش گوئی بھی انجیل میں موجود ہے مگر ایک ان حواریوں میں سے یعنی یہودا اسکریوطی مرتد ہو کر مر گیا۔ اب بتلاؤ باراں تختوں کی پیش گوئی کس طرح صحیح ہو سکتی ہے اگر کوئی جوڑ توڑ آپ کر سکتے ہیں تو ہمیں بھی سمجھا دیں ہم ممنون ہوں گے۔ یہاں تو کسی استعار تو کسی استعارہ کی بھی کچھ پیش نہیں جاتی۔ ایسا ہی حضرت عیسیٰ نے فرمایا تھا کہ اس زمانہ کے لوگ ابھی گزر نہیں جائیں گے کہ میں واپس آؤں گا۔ پس جو لوگ ان کو آسمان پر چڑھائے بیٹھے ہیں کیا انصاری اور کیا مسلمان ۔ اس بات کا جواب ان کے ذمہ ہے کہ انہیں صدیاں تو گذر گئیں مگر ابھی ۔ ابھی تک حضرت عیسیٰ واپس نہیں آئے اور انیس صدیوں تک جو لوگ عمریں پوری کر چکے تھے وہ سب خاک میں مل گئے لیکن اب تک کسی نے حضرت عیسی کو آسمان سے اتر تے نہ دیکھا۔ پھر وہ وعدہ کہاں گیا کہ اس زمانہ کے لوگ ابھی زندہ ہوں گے کہ میں واپس آجاؤں گا۔ غرض ایسی پیش گوئیوں پر جس نے ناز کرنا ہے بیشک کر بے ہم تو قرآن شریف کے فرمودہ کے مطابق حضرت عیسی کو سجانی مانتے ہیں ورنہ اس انجیل کی رو سے جو موجود ہے ان کی نبوت کی بھی خیر نہیں۔ عیسائی تو ان کی خدائی کو روتے ہیں مگر ہمیں ان کی نبوت ہی ثابت کرنا بجز ذریعہ قرآن شریف کے ایک غیر ممکن امر معلوم ہوتا ہے۔ براہین احمدیہ حصہ پنجم ۔ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۶۲ تا ۲۶۴ نیز دیکھیں۔ نسیم دعوت روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۸۱، ۳۸۲