ملفوظات (جلد 9) — Page viii
دو صحیح عہد صحیح عہد وہ ہوتا ہے کہ عہد کرنے سے پہلے طرفین نے قلب صافی کے ساتھ تمام معاملات ایک دوسرے کو سمجھا دیئے ہوں اور کوئی بات ایسی درمیان میں پوشیدہ نہ رکھی ہو جو کہ اگر ظاہر کی جاتی تو دوسرا آدمی اس عہد کو منظور نہ کرتا ۔ ہر ایک عہد جائز نہیں ہوتا کہ اس کو پورا کیا جائے بلکہ بعض عہد ایسے نا جائز ہوتے ہیں کہ ان کا توڑ نا ضروری ہوتا ہے ورنہ انسان کے دین میں سخت حرج واقع ہوتا ہے۔ دو صفات واعظ یا ملازم و غیره ( ملفوظات جلد نهم صفحه ۲۳۳) جب تک کسی میں تین صفتیں نہ ہوں وہ اس لائق نہیں ہوتا کہ اس کے سپر د کوئی کام کیا نہ ۔ جائے۔ اور وہ صفتیں یہ ہیں۔ دیانت محنت علم ۔ جب تک کہ یہ تینوں صفتیں موجود نہ ہوں ۔ تب تک انسان کسی کام کے لائق نہیں ہوتا ۔ اگر کوئی شخص دیانتدار اور محنتی بھی ہو لیکن جس کام میں اس کو لگایا گیا ہے اس فن کے مطابق علم اور ہنر نہیں رکھتا تو وہ اپنے کام کو کس طرح سے پورا کر سکے گا۔ اور اگر علم رکھتا ہے، محنت بھی کرتا ہے دیانتدار نہیں تو ایسا آدمی بھی رکھنے کے لائق نہیں۔ اور اگر علم و ہنر بھی رکھتا ہے اپنے کام میں خوب لائق ہے اور دیانت دار بھی ہے مگر محنت نہیں کرتا تو اس کا کام بھی ہمیشہ خراب رہے گا۔ غرض ہر سہ صفات کا ہونا ضروری ہے۔“ ( ملفوظات جلد نهم صفحه ۲۳۶) جب حضرت اقدس یہ فرما چکے تو حاضر دوستوں میں سے ایک نے سیکھوانی برادران یعنی میرے تایا حضرت میاں جمال الدین صاحب اور میرے والد حضرت میاں امام الدین صاحب اور میرے چچا حضرت میاں خیر الدین صاحب کا ذکر کیا کہ وہ بھی اس کام کے واسطے رکھے جا سکتے ہیں تو حضرت نے فرمایا :۔ دو بیشک وہ بہت موزوں ہیں ۔ مخلص آدمی ہیں۔ ہمیشہ اپنی طاقت سے بڑھ کر خدمت کرتے ہیں۔ تینوں بھائی ایک ہی صفت کے ہیں ۔ میں نہیں جانتا کہ کون ان میں سے