ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page vii of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page vii

یہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جاوے اور جہاں تک اس کی طاقت اور ہمت میں ہے اس کو راضی کرنے کی سعی کرے۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ یہ بات نرے مجاہدہ اور سعی سے نہیں ملتی بلکہ یہ بھی خدا تعالیٰ کے فضل اور توفیق پر موقوف ہے۔“ ( ملفوظات جلد ہشتم صفحہ ۳۱۸) دو اسلام ایک موت ہے یاد رکھو! اسلام ایک موت ہے ۔ جب تک کوئی شخص نفسانی جذبات پر موت وارد کر کے نئی زندگی نہیں پاتا اور خدا ہی کے ساتھ بولتا، چلتا پھرتا ، سنتا، دیکھتا نہیں۔ وہ مسلمان نہیں ہوتا ۔“ دو 66 بیعت مشروط نہیں ہوتی ( ملفوظات جلد نهم صفحه ۲۹) میں کھول کر کہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص میری بیعت اس لیے کرتا ہے کہ اسے بیٹا ملے یا فلاں عہدہ ملے یعنی شرطی باتوں پر بیعت کرتا ہے تو وہ آج نہیں ۔ کل نہیں ۔ ابھی الگ ہو جاوے اور چلا جاوے۔ مجھے ایسے آدمیوں کی ضرورت نہیں اور نہ خدا کو ان کی پروا ہے۔“ تقوی تمام دینی علوم کی کنجی ہے ( ملفوظات جلد نهم صفحه ۲۵) قرآن شریف کے سمجھنے اور اس کے موافق ہدایت پانے کے لیے تقویٰ ضروری اصل ہے۔ ایسا ہی دوسری جگہ فرما یا لا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة:۸۰) دوسرے علوم میں یہ شرط نہیں ۔ ریاضی، ہندسہ و ہیئت وغیرہ میں اس امر کی شرط نہیں کہ سیکھنے والا ضرور منتقی اور پر ہیز گار ہو بلکہ خواہ کیسا ہی فاسق و فاجر ہی ہو وہ بھی سیکھ سکتا ہے مگر علم دین میں خشک منطقی اور فلسفی ترقی نہیں کر سکتا اور اس پر وہ حقائق اور معارف نہیں کھل سکتے جس کا دل خراب ہے اور تقوی سے حصہ نہیں رکھتا ۔۔۔۔ یہ خوب یاد رکھو کہ تقوی تمام دینی علوم کی کنجی ہے۔ انسان تقویٰ کے سوا ان کو نہیں سیکھ سکتا ۔“ 66 ( ملفوظات جلد نهم صفحه ۵۴، ۵۵)