ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 36 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 36

ملفوظات حضرت مسیح موعود قومی بھی اس نے ہی پیدا کئے ہیں ۔ ۳۶ جلد نهم پھر میں ایک اور نقص بھی دیکھتا ہوں ۔ بعض لوگ تھک جاتے ہیں۔ میرے پاس ایسے خطوط آئے ہیں جن میں لکھنے والوں نے ظاہر کیا کہ ہم چار سال یا اتنے سال تک نماز پڑھتے رہے دعا ئیں کرتے رہے۔ کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔ ایسے لوگوں کو میں محبت سمجھتا ہوں تھکنا نہیں چاہیے۔ گر نباشد بدوست راه بردن شرط عشق است در طلب مردن میں تو یہاں تک کہتا ہوں اگر تیس چالیس برس بھی گذر جاویں تب بھی تھکے نہیں اور باز نہ آوے خواہ جذبات بڑھتے ہی جاویں۔ اللہ تعالیٰ دعا کرنے والے کو ضائع نہیں کرتا ۔ ہے جب تضرع سے دعا کرتا ہے اور معصیت میں مبتلا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ یہ شخص بچایا جاوے اور وہ بچایا جاتا ہے کیونکہ اِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ (البقرة: ٢٢٣) ۔ یا درکھو! جو شخص مرا ہے اور ہلاک ہوا ہے وہ تھکنے سے مرا ہے ۔ خدا تعالیٰ سے مانگنا اور دعا کرنا موت ہے ہر شخص جو خدا سے مانگتا ہے ضرور پاتا ہے مگر وہ آپ ہی بدظنی کرتا ہے تب حاصل نہیں ہوتا ۔ ( اس کے بعد آپ نے دیر تک جماعت کے لیے دعا کی ۔ ایڈیٹر ) سے لے بدر سے ۔ ”’بدیوں کا چھوڑ دینا کسی کے اپنے اختیار میں نہیں ۔ اس واسطے راتوں کو اٹھ اٹھ کر تہجد میں خدا کے حضور دعائیں کرو۔ وہی تمہارا پیدا کرنے والا ہے خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ (الصفت : ۹۷) پس اور کون ہے جوان بدیوں کو دور کر کے نیکیوں کی توفیق تم کو دے۔“ ( بدر جلد ۶ نمبر ۱ ، ۲ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۷ ء صفحه ۱۷) ے بدر سے ۔ یقیناً خدا رحیم کریم اور حلیم ہے۔ وہ دعا کرنے والوں کو ضائع نہیں کرتا۔ تم دعا میں مصروف رہو اور اس بات سے مت گھبراؤ کہ جذبات نفسانی کے جوش سے گناہ صادر ہو جاتا ہے۔ وہ خدا سب کا حاکم ہے وہ چاہے تو فرشتوں کو بھی حکم کر سکتا ہے کہ تمہارے گناہ نہ لکھے جاویں۔ دیکھو! دعا کے ساتھ عذاب جمع نہیں ہوتا ۔ مگر دعا صرف زبان سے نہیں ہوتی بلکہ دعا وہ ہے کہ۔ جو منگے سومر رہے مرے سومنگن جاۓ سے الحکم جلد ا ا نمبر ۲ مورخه ۱۷ جنوری ۱۹۰۷ صفحه ۳ تا ۱ ( بدر جلد ۶ نمبر ۱ ، ۲ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۷ ء صفحه ۱۷)