ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 35 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 35

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۵ جلد نهم حدیث النفس کا ذکر موجود ہے۔ یہ کوئی چیز نہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک تو حمل حقیقی ہوتا ہے جب مدت مقررہ نو ماہ گذر جاتے ہیں تو لڑکا یا لڑکی پیدا ہو جاتی ہے۔ ایک اس کے مقابلہ میں حمل کا ذب ہوتا ہے بعض عورتیں رات دن اولاد کی خواہش کرتی رہتی ہیں جس سے رجا کی مرض پیدا ہو جاتی ہے اور جھوٹا حمل ہو کر پیٹ پھولنے لگتا ہے اور حمل کے علامات ظاہر ہوتے ہیں لیکن نو ماہ کے بعد پانی کی مشک نکل جاتی ہے ایسا ہی حال ان کشوف اور خوابوں کا ہے جب تک انسان محض خدا ہی کا نہ ہو جاوے۔ یہ کچھ بھی چیز نہیں ہے۔ انسان کی عزت اسی میں ہے اور یہی سب سے بڑی دولت اور نعمت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو۔ جب وہ خدا کا مقرب ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہزاروں برکات اس پر نازل کرتا ہے زمین سے بھی اور آسمان سے بھی اس پر برکات اترتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیخ کنی کے لیے قریش نے کس قدر زور لگایا۔ وہ ایک قوم تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تن تنہا ۔ مگر دیکھو! کون کامیاب ہوا اور کون نامرادر ہے؟ نصرت اور تائید خدا تعالیٰ کے مقرب کا بہت بڑا نشان ہے۔ دوسرے یہ کہ ایسا شخص خزاں کے وقت آتا ہے اور بہار ہو جاتی ہے ۔ وہ لوگ جو خدا کی طرف سے نہ ہوں اور اس قسم کی شیخیاں مار نے والے ہوں ان کی مثال ایسی ہے جیسے مردار پر بیٹھے ہوں ۔ لے مگر جو خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے جی و قیوم خدا اس کے ساتھ ہے وہ خود زندہ ہے اسے زندہ کرے گا۔ وہ اپنے وعدوں کو جو اس سے کئے ہیں سچا کر دکھائے گا۔ ہے میری نصیحت بار بار یہی ہے کہ جہاں تک ہو سکے اپنے نفسوں کا بار بار مطالعہ کرو۔ بدی کا چھوڑ دینا یہ بھی ایک نشان ہے اور خدا ہی سے چاہو کہ وہ تمہیں توفیق دے کیونکہ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ (الصُّفْت: ۹۷) ے بدر سے ۔ ” وہ اس مردار سے کیا حاصل کر سکتا ہے۔“ ( بدر جلد ۶ نمبر ۱ ، ۲ مورخہ ۱۰ جنوری ۱۹۰۷ ء صفحہ ۱۶) وو بدر سے ۔ ” جب تک خدا تعالیٰ کے وعدے جو اس کے ساتھ ہوتے ہیں پورے نہ ہو لیں تب تک وہ مرتا نہیں اور اس کے سلسلہ میں کچھ کمی نہیں آتی ۔“ 66 ( بدر جلد ۶ نمبر ۱ ، ۲ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۷ ء صفحه ۱۶)