ملفوظات (جلد 9) — Page 37
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷ / دسمبر ۱۹۰۶ء ۳۷ جلد نهم تقریر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرموده بعد نماز ظهر و عصر مسجد اقصی قادیان میں لے نے جو کچھ کل بیان کیا تھا اس میں سے کچھ حصہ باقی رہ گیا تھا اس لیے میں نے مناسب اور ضروری سمجھا کہ اس حصہ کو بیان کر دوں تا کہ وہ بیان مکمل ہو جاوے۔ سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سلسلہ جو نئے طور سے قائم کیا مذہبی آزادی پر اظہار تشکر ہے نے اسے قائم ہوتے ہی مصائب اور مشکلات پیدا ہو گئے اندرونی اور بیرونی طور پر طرح طرح کے دکھ اس کو دیئے گئے سے مگر بیرونی طور پر جو دکھ دیا گیا ہے اس پر افسوس نہیں اس لیے کہ وہ دکھ صرف زبان کا دکھ ہے اور اس دکھ کے مقابلہ میں یہ کچھ چیز نہیں جو ابتدائے اسلام اور غربت اسلام کے وقت ان لوگوں کو اٹھانا پڑا جو اسلام میں داخل ہوئے ۔ وہ دکھ اس قسم کے تھے کہ ان کو بیان کرنے سے بھی دل کانپ جاتا ہے کہ وہ کیسے سنگدل انسان تھے کہ انہوں نے صرف مسلمان ہونے پر ان کو طرح طرح کی مشکلات اور مصائب میں ڈالا اور بہتوں کو وہ ے بدر سے ۔ میں نے کل جو کچھ بیان کیا تھا اس کی تکمیل بہ سبب بیماری کے نہ ہو سکی ۔“ ( بدر جلد ۶ نمبر ۳ مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۷ ء صفحه (۸) بدر سے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ سلسلہ اس واسطے قائم کیا ہے کہ لوگ نئے طور پر اس کی ہستی پر ایمان اور یقین حاصل کریں۔ ( بدر جلد ۶ نمبر ۳ مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۷ صفحه (۸) وو سے بدر سے۔ یہ ایذا رسانی صرف بیرونی لوگوں کی طرف سے نہیں ہے جو غیر مذاہب کے لوگ ہیں بلکہ اندرونی لوگوں کی طرف سے بھی جو کہ مسلمان کہلاتے ہیں ہم دکھ دیئے جاتے ہیں اور وہ لوگ ہماری مخالفت میں کوئی بات 66 چھوڑ نہیں سکتے ۔“ ( بدر جلد ۶ نمبر ۳ مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۷ ء صفحہ ۸ )