ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 316 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 316

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۶ جلد نهم اللہ کریم نے ان سب کے نام اور حالات سے ہمیں آگاہی نہیں دی ہے جیسے فرمایا وَ لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُم مَّنْ قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَ مِنْهُم مَّنْ لَّمْ نَقْصُصُ عَلَيْكَ (المؤمن : ۷۹) اتنے کروڑ مخلوقات پیدا ہوتی رہی اور کروڑ ہا لوگ مختلف ممالک میں آباد رہے یہ تو نہیں ہو سکتا کہ خدا تعالیٰ نے ان کو یونہی چھوڑ دیا ہو اور کسی نبی کے ذریعہ سے ان پر اتمام حجت نہ کی ہو۔ آخران میں رسول آتے ہی رہے ہیں ۔ کے ممکن ہے کہ یہ بھی انہیں میں سے ایک رسول ہوں مگر ان کی تعلیم کا صحیح صحیح پتا اب نہیں لگ سکتا۔ کیونکہ زمانہ دراز گذر جانے سے تحریف لفظی اور معنوی کے سبب بعض باتیں کچھ کا کچھ بن گئی ہیں حقیقی طور پر محفوظ رہنے کا وعدہ تو صرف قرآن مجید کے لیے ہی ہے۔ مومن کو سوء ظن کی نسبت نیک ظن کی طرف زیادہ جانا چاہیے۔ سے قرآن مجید میں وَ إِنْ مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ (فاطر: ۲۵) لکھا ہے۔ اس لیے ہو سکتا ہے کہ وہ بھی ایک رسول ہوں ۔ سوال نمبر ۲۔ براہین احمدیہ میں آپ نے کلام الہی کی ایک نشانی یہ بھی لکھی ہے کہ وہ ہر ایک پہلو میں دوسری کلاموں سے افضل ہوتا ہے۔ توریت انجیل بھی تو خدا کا کلام ہیں کیا ان میں بھی یہ وصف پایا جاتا ہے؟ حضرت اقدس نے فرمایا کہ - ان کتابوں کی نسبت قرآن مجید میں يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ (المائدۃ: ۱۴) لکھا ہے وہ لوگ شرح کے طور پر اپنی طرف سے بھی کچھ ملا دیا کرتے تھے ۔ اس لیے جو کتابیں محرف مبدل وو لے بدر سے ” یہ تفصیل وہ کون تھے اور کہاں کہاں تھے اور کس ملک میں رہتے تھے۔ اس کو ہم نہیں جانتے“ ( بدر جلد ۶ نمبر ۴۴ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۷ ء صفحه (۸) وہ بدر سے ۔ ہم ایسا نہیں کہہ سکتے کہ وہ تمام ممالک اور وہ تمام مخلوق ہمیشہ انبیاء سے خالی رہی ہے ہم یہی مانتے ہیں کہ ہندوستان میں بھی خدا تعالیٰ کے پیغمبر گزرے ہیں اور ایران میں بھی ہوئے اور دوسرے ممالک میں بھی ہوئے ہیں ۔“ ( بدر جلد ۶ نمبر ۴۴ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۷ ء صفحه (۸) سے بدر سے ۔ ”حضرت عمرؓ نے پارسیوں کو اہل کتاب میں داخل سمجھا تھا اور ان کے ساتھ وہی سلوک کیا تھا جو کہ اہل کتاب کے ساتھ کرنا چاہیے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بھی یہی طریق تھا۔ ایسے جلیل القدر اصحاب کی رائے کی اس معاملہ میں قدر کرنی چاہیے اس طرح ایک فیصلہ شدہ امر ہو جاتا ہے۔“ (بدر جلد ۶ نمبر ۴۴ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۷ صفحه ۸)