ملفوظات (جلد 9) — Page 317
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۷ جلد نهم ہو چکی ہیں ان میں یہ نشانی کب مل سکتی ہے؟ و اس پر حضرت حکیم الامت نے عرض کی کہ حضور توریت میں لکھا ہے پھر موسیٰ خدا کا بندہ مر گیا اور موسیٰ جیسا نہ کوئی پیدا ہوا نہ ہوگا اور اس کی قبر بھی آج تک کوئی نہیں جانتا، تو یہ کلام حضرت موسی کی ہو ہی کسی طرح سکتی ہے اور انجیل کی نسبت تو عیسائی خود قائل ہیں کہ وہ اصلی جو عیسی کی انجیل تھی نہیں ملتی ۔ یہ سب تراجم در تراجم ہیں اور ترجمے مترجم کے اپنے خیالات کے مطابق ہوا کرتے ہیں۔ اور ان میں بہت سا حصہ اس قسم کا پایا جاتا ہے جو دوسروں کا بیان ہے جیسے صلیب کا واقعہ وغیرہ۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ ٹھیک بات ہے۔ اگر تمام دنیا میں تلاش کریں تو قرآن مجید کی طرح خالص اور محفوظ کلام الہی کبھی نہیں مل سکتا بالکل محفوظ اور دوسروں کی دست برد سے پاک کلام تو صرف قرآن مجید ہی ہے۔ دو باتیں بڑی یا درکھنے والی ہیں ایک تو قرآن شریف کی حفاظت کی نسبت کہ روئے زمین پر ایک بھی ایسی کتاب نہیں جس کی حفاظت کا وعدہ خود اللہ کریم نے کیا ہو اور جس میں اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ ( الحجر : ۱۰) کا پر زور اور متحد یا نہ دعوئی موجود ہو۔ اور دوسرا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اخلاقی حالتوں کی نسبت ۔ کیونکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر ایک طرح کے اخلاق ظاہر کرنے کا موقع ملا۔ حضرت موسیٰ کو دیکھو کہ وہ راستہ میں ہی فوت ہو گئے تھے اور حضرت عیسی تو ہمیشہ مغلوب ہی رہے۔ معلوم نہیں اگر غالب ہوتے تو کیا کرتے ۔ مگر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر طرح سے اقتدار اور اختیار حاصل کر کے اپنے جانی دشمنوں اور خون کے پیاسوں کو اپنے سامنے بلا کر کہہ دیا لا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ (یوسف : ۹۳) اور پھر یہ بھی دیکھو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مبعوث ہوئے تھے جب فسق و فجور ، شرک اور بت پرستی اپنے انتہا کو پہنچ چکی تھی اور ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم : ۴۲) والا معاملہ ہورہا تھا۔ اور گئے اس وقت تھے جب وَ رَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا (النصر : ۳) والا نظارہ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لیا تھا اور یہ ایک ایسی بات ہے جس کی نظیر تمام دنیا میں نہیں پائی جاتی اور یہی تو کاملیت ہے کہ جس مقصود کے لیے