ملفوظات (جلد 9) — Page 315
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۵ جلد نهم نہیں ملا کرتا جو لوگ ایک ہی پہلو پر زور دیئے جاتے ہیں اور ابتلاؤں اور آزمائشوں میں صبر کرنا نہیں چاہتے۔ اندیشہ ہے کہ وہ دین ہی چھوڑ دیں جیسے کہ شیعہ لوگ ہیں کہ اس حقیقت کو دیکھتے نہیں جو امتحانوں اور آزمائشوں کے بعد حاصل ہوا کرتی ہے اور نہ ہی اس کی پروا کرتے ہیں مگر سیا پا لگا تار کئے جاتے ہیں اور چھوڑنے میں نہیں آتے ۔ کیا امام حسین نے انہیں وصیت کی تھی کہ میرے بعد میرا سیا پا کرتے رہنا؟ یا د رکھو جتنے اولیاء اللہ اور مقرب لوگ گزرے ہیں ۔ ان کے بڑے بڑے تلخ امتحان ہوئے ہیں اور جو پہلوں کا حال ہے وہ آنے والوں کے لیے ایک سبق ہے۔ یہ تو بڑی غلطی ہے کہ ایک طرف تو انسان چاہے کہ ہر طرح کی آسودگی اور آرام ہو اور خوشنودی کے سب سامان مہیا ہوں اور دوسری طرف مقرب اللہ بھی بن جاوے۔ یہ تو ایسا مشکل ہے جیسے اونٹ کا سوئی کے نگے میں سے گذر جانا بلکہ اس سے بھی نا ممکن ۔ جب تک ابتلاؤں اور امتحانوں میں انسان پورا نہ اترے کچھ نہیں بنتا۔ لے بلا تاریخ ایک شخص نے حضرت اقدس کی خدمت بابرکت میں چند سوال چند سوالات کے جوابات پیش کئے جو مع جواب ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔ سوال نمبر 1 ۔ زردشت نبی تھا یا نہیں ؟ حضرت اقدس نے فرمایا۔ ہم تو یہی کہیں گے کہ امنْتُ بِاللهِ وَ رُسُلِهِ " خدا کے کل رسولوں سے پر ہمارا ایمان ہے مگر لی الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۸ مورخه ۲۴ اکتوبر ۱۹۰۷ صفحه ۱۱ نیز بدر جلد ۶ نمبر ۴۴ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۷ صفحه ۳ کے بدر میں لکھا ہے ۔ آمَنْتُ بِاللهِ وَ مَلئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ ( بدر جلد ۶ نمبر ۴۴ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحه ۸) سے بدر میں لکھا ہے ۔ خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں اور تمام رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں ۔ ( بدر جلد ۶ نمبر ۴۴ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۷ ء صفحه ۸ )