ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 311 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 311

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۱ جلد نهم - پہنچتیں بلکہ اسی وقت ان کے منہ پر ماری جاتی ہیں اور ان کے لیے لعنت کا موجب ہوتی ہیں خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ (الماعون : ۶،۵ ) وہ لوگ جو نمازوں کی حقیقت سے ہی بے خبر ہوتے ہیں ۔ ان کی نمازیں نری ٹکریں ہوتی ہیں ۔ ایسے لوگ ایک سجدہ اگر خدا کو کرتے ہیں تو دوسرا دنیا کو کرتے ہیں جب تک انسان خدا کے لیے تکالیف اور مصائب کو برداشت نہیں کرتا ۔ تب تک مقبول حضرت احدیت نہیں ہوتا ۔ دیکھو ! دنیا میں بھی اس کا نمونہ پایا جاتا ہے۔ اگر ایک غلام اپنے آقا کا ہر ایک تکلیف اور مصیبت میں اور ہر ایک خطرناک میدان میں ساتھ دیتا رہے تو وہ غلام غلام نہیں رہتا بلکہ دوست بن جاتا ہے۔ یہی خدا کا حال ہے اگر انسان اس کا دامن نہ چھوڑے اور اسی کے آستانہ پر گرا ر ہے اور استقلال کے ساتھ وفاداری کرتا رہے تو پھر خدا بھی ایسے کا ساتھ نہیں چھوڑتا اور اس کے ساتھ دوست والا معاملہ کرتا ہے ۔ وفاداری کا مادہ تو کتے میں بھی پایا جاتا ہے۔ خواہ وہ بھوکا رہے۔ بیمار ہو جائے کمزور ہو جائے خواہ کچھ ہی ہو مگر اپنے مالک کے گھر کو نہیں چھوڑتا اور وہ لوگ جو ذراسی تکلیف پر دین سے ہی روگرداں ہو جاتے ہیں ان کو کتے سے سبق سیکھنا چاہیے۔ لکھا ہے کہ ایک یہودی مشرف باسلام ہوا۔ کچھ دن بعد جو مصیبت کا سامنا ہوا اور بھوکا مرنے لگا اور فاقہ پر فاقہ آنے لگا تو کسی یہودی کے مکان پر بھیک مانگنے کے لیے گیا۔ یہودی نے اس نو مسلم کو چار روٹیاں دیں۔ جب وہ روٹیاں لے کر جا رہا تھا تو ایک کتا بھی اس کے پیچھے ہولیا۔ اس شخص نے یہ خیال کر کے کہ شاید ان روٹیوں میں سے کتے کا بھی کچھ حصہ ہے ایک روٹی کتے کے آگے پھینک دی اور آگے چل دیا ۔ کتا اس روٹی کو جلدی جلدی کھا کر پھر پیچھے پیچھے ہولیا تب اس نے خیال کیا کہ شاید ان روٹیوں میں سے نصف حصہ کتنے کا ہو۔ تب اس نے ایک اور روٹی کتنا کے آگے پھینک دی مگر کتا اس کو بھی کھا کر پیچھے پیچھے چل دیا۔ پھر اس نے جب معلوم کیا کہ کتا پیچھا نہیں چھوڑتا تو اسے خیال گذرا کہ شاید تین حصے اس کے ہوں اور ایک حصہ میرا ہو اس لئے اس نے ایک روٹی اور ڈال دی مگر کتا وہ روٹی کھا کر بھی واپس نہ گیا۔ تب اسے کتنے پر غصہ آیا اور کہا تو تو بڑا بدذات ہے۔