ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 312 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 312

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۲ جلد نهم مانگ کر میں چار روٹیاں لایا تھا مگر ان میں سے تین کھا کر بھی تو پیچھا نہیں چھوڑتا۔ خدا تعالیٰ نے اس وقت کتے کو بولنے کے لئے زبان دے دی۔ تب کتے نے جواب دیا کہ میں بدذات نہیں ہوں۔ میں خواہ کتنے فاقے اٹھاؤں مگر مالک کے سوائے دوسرے گھر پر نہیں جاتا۔ بدذات تو تو ہے جو دو تین فاقے اٹھا کر ہی کافر کے گھر مانگنے کے لیے آگیا۔ تب وہ مسلمان یہ جواب سن کر اپنی حالت پر بہت پشیمان ہوا۔ ایسے ہی گورداسپور میں ایک با ایک بلی تھی خواہ کچھ ہی اس کے پاس پڑار ہے مگر وہ بغیر اجازت کچھ نہ کھاتی تھی ایک دفعہ بعض دوستوں نے اس بلی کے مالک کو کہا کہ ہم بھی یہ تجربہ کرنا چاہتے ہیں چنانچہ انہوں نے حلوہ، دودھ، چھیچھڑے وغیرہ بلی کے پاس رکھ کر باہر سے قفل لگا دیا۔ تین دن کے بعد جو دیکھا تو بلی مری پڑی تھی اور وہ کھانا اس طرح صحیح سالم موجود تھا۔ اگر ارذل مخلوقات کے صفات حسنہ بھی انسان میں نہ پائے جائیں تو پھر وہ کس خوبی کے لائق ہے؟ ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۷ء (بوقت سیر) عبادت کے اصول کا خلاصہ حضرت اقدس نے فرمایا۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ نماز میں کھڑے ہو کر اللہ جل شانہ کا کس طرح کا نقشہ پیش نظر ہونا چاہیے؟ موٹی بات ہے۔ قرآن شریف میں لکھا ہے اُدْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ (الاعراف: ۳۰) اخلاص سے خدا تعالیٰ کو یاد کرنا چاہیے اور اس کے احسانوں کا بہت مطالعہ کرنا چاہیے۔ چاہیے کہ اخلاص ہو ۔ احسان ہو اور اس کی طرف ایسار جوع ہو کہ بس وہی ایک رب اور حقیقی کارساز ہے۔ عبادت کے اصول کا خلاصہ اصل میں یہی ہے کہ اپنے آپ کو اس طرح سے کھڑا کرے کہ گویا خدا کو دیکھ رہا ہے اور یا یہ کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے۔ ہر قسم کی ملونی اور ہر طرح کے شرک سے پاک ہو الحکم جلدا انمبر ۳۶ مورخہ ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۷ صفحه ۱۱،۱۰، ۱۴ نیز بدر جلد ۶ نمبر ۴۲ مورخه ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۷ صفحه ۸ تا ۱۰