ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 290 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 290

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۰ جلد نهم ۲۸ ستمبر ۱۹۰۷ء (بوقت عصر) کسی نے ٹیکہ لگوانے کی بابت دریافت کیا۔ طاعون سے بچنے کے لیے حفظ ما تقدم فرمایا۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ کوئی پیاری نہیں جس کی دوا نہ ہو۔ ٹیکہ بھی ایک دوا ہے۔ مسلمانوں کو اگر وہ مسلمان بن جاویں تو خدا ہی ان کا ٹیکہ ہے۔ چاہیے کہ جس جگہ بیماری زور پکڑ جاوے وہاں نہ جاویں اور جس جگہ ابھی ابتدائی حالت ہو تو وہاں سے باہر کھلی ہوا میں چلے جائیں ۔ مکان، بدن اور کپڑے کی صفائی کا بہت خیال رکھیں کوشش تو اس کے روکنے کی بہت ہو رہی ہے مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں بار بار فرمایا ہے اِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ - یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ اس حالت کو نہیں بدلائے گا جب تک دلوں کی حالت میں یہ لوگ خود تبدیلی نہ کریں مجوزوں نے سب زور اسباب کے مہیا کرنے میں لگا دیا ہے۔ اگر یہ بیماری دور بھی ہو جاوے تو ممکن ہے کوئی اور بلا آجاوے۔ توکل کی جو بات خدا نے ہمیں سکھائی ہے وہ تو ان کے وہم میں بھی نہیں آتی ہوگی ۔ اگر اسباب اور دوسری باتوں پر اتنا بھروسہ کیا گیا تو شاید کوئی اور و با آجاوے۔ ہماری جماعت کے لیے بہت بہتر ہے کہ جس جگہ کوئی چوہا مرے تو وہاں سے نکل جاوے اور دور اندیشی تو یہ ہے کہ پہلے ہی سے جگہ تجویز کر لی جاوے اور عام میل جول نہ رکھے۔ صرف اپنے زیادہ قریبیوں یوں اور دوستوں سے ملاقات رکھنی چاہیے۔ ایسے دنوں میں کثرت سے پر ہیز کرنی چاہیے اور گندی اور زہریلی ہوا سے علیحدہ رہنا چاہیے۔ خدا تعالیٰ بھی فرماتا ہے وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ (المدثر : 1) اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک ایسی جگہ پر ٹھہرنے سے منع کیا تھا جہاں پہلے ایک دفعہ عذاب آچکا تھا۔ قہرا فرمایا۔ طاعون کیسا قہر الہی ہے کہ ہر سال سر پر آجاتی ہے را ہی ابھی بھڑکنے والا ہے اور پھر ایسی آتی ہے کہ لوگ دیوانہ کی طرح ہو جاتے ہیں اور میں نے یہ بھی سنا ہے کہ بعض آدمی قبریں پہلے ہی سے کھود رکھتے ہیں بڑے ہی خوفناک دن