ملفوظات (جلد 9) — Page 289
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸۹ جلد نهم اور حقوق عباد اور حقوق اللہ کے ادا کرنے کی دقیق سے دقیق رعایت کیا کریں ۔ کوئی منصوبہ اور جعل ان کے کسی عضو پر نہ ہو ۔ کوئی کتا اور بلی بھی ان کے احسان سے محروم نہ رہے چہ جائیکہ بنی آدم ۔ میں ان لوگوں کو بہت برا جانتا ہوں جو دین کی آڑ میں کسی غیر قوم کی جانی و مالی ایذا روا رکھتے ہیں۔ غرض خلاصہ ساری تقریر کا یہی ہے کہ اب وقت ہے کہ جماعت اپنی حالت میں بین تبدیلی دکھائے ۔ نشانات کی قدردانی کریں فرمایا کہ مجھے پختہ وعدہ دیا گیا ہے کہ بہت سے عظیم الشان نشان تیرے ہاتھ سے ظاہر ہوں گے مگر یہ علم مجھ کو نہیں دیا گیا کہ کون کون لوگ اس سے مستفید ہوں گے۔ فرمایا کہ نشانوں کی نا قدردانی دو طرح سے وقوع میں آتی ہے۔ ایک کفروا نکار سے، اور ایک اس طرح سے کہ دو روز تک اس کے وقوع کے بعد واہ واہ کی جائے اور پھر اسے قطعاً فراموش کر ڈالا جائے اور خدا کی عظمت و جبروت اس کے وقوع کے بعد نئے سرے دل پر وارد نہ کی جائے ۔ سو میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت کا بھی یہی حال ہے کہ نشانِ الہی کی چنداں پروانہیں کرتے اور غفلت و تساہل سے وقت گزارتے ہیں اور اکثر ان میں ایسے ہیں کہ سوز و گداز ان کے افعال میں نظر نہیں آتا۔ فرمایا۔اگر دین الہی کے اعلا اور تعظیم اور حرمات الہیہ کی ہتک کے انتقام کے لیے روح میں جوش اور قوت اور عقد ہمت نہ ہو تو یہ نمازیں نری جنتر منتر ہیں ۔ اب وقت ہے کہ گداز گداز ہو ہو جائیں اور رات دن دعاؤں میں مصروف رہیں ۔ میں فکروں میں ہلاک ہو رہا ہوں ۔ مگر دیکھتا ہوں کہ جماعت میں ہنوز یہ روح پیدا نہیں ہوئی۔ میں ان روکھی سوکھی نمازوں کا ہرگز قائل نہیں جو رسم و عادت کے پیرایہ سے پڑھی جاتی ہیں ۔ خدا تعالیٰ اس وقت دیکھتا ہے کہ کن لوگوں نے گذشتہ نشانوں کی قدر دانی کی اور اپنے اعمال میں تبدیلی پیدا کی ۔ وہ ان ہی کو آئندہ بھی مستفید ہونے کی توفیق بخشے گا۔ اے ۱ بدر جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخه ۲۶ رستمبر ۱۹۰۷ ء صفحه ۸