ملفوظات (جلد 9) — Page 254
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵۴ جلد نهم میں تو یہی ایمان رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر انسان ہلاک ہو جاتا ہے اور اگر اسے نہ چھوڑے تو ساری دنیا اس کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتی۔ اگر خالص سونا لینا ہو تو پابندی شریعت سے ملے گا۔ ہاں اگر راس المال بھی کھونا ہو تو پھر بے قیدی اختیار کرے۔ خدا تعالیٰ کے لیے اگر کوئی بات نہ ہو تو کوئی ساتھ نہیں دیتا۔ دیکھولا جپت رائے کی گرفتاری پر اخباروں میں آریوں کی طرف سے کیا نکلا یہی کہ ہمارا تعلق نہیں ۔ بیرسٹر ۔ آریوں کے نزدیک اس وقت مصلحت وقت یہی تھی ۔ حضرت اقدس ۔ یہ کیا مصلحت وقت تھی۔ یہ تو بزدلی ہے۔ صحابہ نے ایسا نہیں کیا۔ حضرت کے صحابہ ذبح ہو گئے مگر حق کہنے سے نہ رکے۔ انہوں نے ایسی کشور کشائی کی کہ اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ اس کی وجہ کیا تھی ؟ ان میں اخلاص تھا صدق اور وفا تھی ۔ اس قسم کے مصلحت اندیش دہریئے ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ پر وثوق رکھتے ہیں اور خدا کے لیے ایک بات کرتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی نصرت آئے گی ۔ اس لیے وہ ایسا نہیں کرتے کہ حق بات کے کہنے سے رکیں ۔ مجھ سے اگر سوال ہو کہ تم مسیح موعود کا دعوی کرتے ہو تو پھر میں بتاؤں کہ اس کا کیا جواب دیتا ہوں سوا صدق اور مردانہ ہمت کے کام نہیں چلتا ۔ ہم پر اس قدر مقدمے کئے گئے مگر ان کا انجام کیا ہوا؟ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ان باتوں سے ڈر کر ہم نے قدم پیچھے ہٹایا۔ یہ تو شرک ہے۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا ہے اور وہ اپنے مخلص بندوں کی مددفرماتا ہے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو سچے دل سے لا اله الا اللہ کہتا ہے خدا تعالیٰ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ اسلام ہی ایک مذہب ہے جس سے یہ جو ہر پیدا ہوتا ہے۔ یہ لوگ ملک وملت کے دشمن ہیں۔ ان کی صحبت سے بچنا چاہیے ۔ گورنمنٹ کے ہم مسلمانوں پر بہت بڑے احسان ہیں ۔ ہمارا فرض ہے کہ اس کی شکر گذاری کے لیے ہر وقت تیار رہیں ۔ بیرسٹر۔ میں نے فلسفہ پر بہت سا وقت ضائع کیا ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ ان کا فلسفہ کمزور ہے۔ ه حضرت اقدس ۔ پھر ہم تو یہ کہتے ہیں ۔ اے کہ خواندی حکمت یونانیان حکمت ایمانیان را هم بخوان