ملفوظات (جلد 9) — Page 253
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵۳ جلد نهم بد دعا کریں گے تو وہ سب کا فرمل کر آئے اور عرض کی کہ حضور بددعا نہ کریں ۔ سچے آدمی کا ضرور رعب ہوتا ہے۔ چاہیے کہ بالکل صاف ہو کر عمل کیا جاوے اور خدا کے لیے کیا جاوے تب ضرور تمہارا دوسروں پر بھی اثر اور رعب پڑے گا۔ او قومی ترقی کا راز ۱۴ تمبر ۱۹۰۷ ء کو قادیان میں ایک بیرسٹر صاحب تشریف لائے تھے جن کا نام نامی مسٹر فضل حسین صاحب ہے۔ ان کے ساتھ ہی میاں حسین بخش صاحب پنشنز رئیس بٹالہ بھی تھے حضرت اقدس سے بھی ملاقات ہوئی ۔ اثنائے گفتگو میں بعض باتیں ایسی تھیں جو نہایت مؤثر اور اس زندہ ایمان کا ثبوت تھیں جو حضرت اقدس کو اللہ تعالیٰ پر ہے۔ اس لیے میں اس حصہ کو یہاں درج کرتا ہوں ۔ مسر فضل حسین ۔ آریوں نے اپنا یہ اصل قرار دیا ہے کہ جب تک بہت سی پابندیاں دور نہ ہوں، قومی ترقی نہیں ہو سکتی ۔ حضرت اقدس ۔ یہ غلط خیال ہے۔ ترقی کا یہ اصول نہیں ہے۔ اسلام نے کیسے ترقی کی ۔ کیا بے قیدی اور آزادی سے یا پابندی شریعت اور اطاعت سے۔ بعض مسلمانوں کو بھی ایسا ہی خیال ہو رہا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بے قیدی سے ترقی ہوگی مگر میں اس راہ کو سخت مصر اور خطر ناک سمجھتا ہوں ۔ مسلمان جب ترقی کریں گے خدا پرستی سے کریں گے جس طرح پر اوائل میں اسلام نے ترقی کی وہی خدا اب بھی موجود ہے۔ میری جماعت ہی کو دیکھو! مجھے کافر و دجال بنایا گیا۔ میرے قتل کے فتوے دیئے ۔ راہ و رسم بند کیا۔ مسلمان میرے دشمن ہو گئے ۔ یہاں تک فتوے دے کر کہ کوئی مسلمان ہم سے کشادہ پیشانی سے بھی پیش نہ آئے ۔ مگر آپ ہی بتا ئیں ۔ اس مخالفت کا کیا نتیجہ ہوا ؟ اب میری جماعت چار لاکھ کے قریب ہے جس میں ڈاکٹر ہیں، حکماء ہیں، وکلاء ہیں، تاجر ہیں، ہر پیشہ اور طبقہ کے لوگ موجود ہیں ۔ یہ مخالفت ہمارا کیا بگاڑ سکتی ہے۔ خداداری چه غم داری ۔ الحکم جلد ا ا نمبر ۳۴ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحه ۳، ۴ -