ملفوظات (جلد 9) — Page 252
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵۲ جلد نهم نہیں ۔ ہکا بکا رہ جاویں گے۔ انسان کو چاہیے کہ حقیقی طور پر دل ہی دل میں معافی مانگتا ر ہے کہ وہ معاصی اور جرائم جو مجھ سے سرزد ہو چکے ہیں ان کی سزا نہ بھگتنی پڑے اور آئندہ دل ہی دل میں ہر وقت خدا سے مدد طلب کرتا رہے کہ آئندہ نیک کام کرنے کی توفیق دے اور معصیت سے بچائے رکھے۔ خوب یا درکھو کہ لفظوں سے کچھ کام نہیں بنے گا۔ اپنی زبان میں بھی استغفار ہو سکتا ہے کہ خدا پچھلے گناہوں کو معاف کرے اور آئندہ گناہوں سے محفوظ رکھے اور نیکی کی توفیق دے اور یہی حقیقی استغفار ہے۔ کچھ ضرورت نہیں کہ یونہی اَسْتَغْفِرُ اللهَ اسْتَغْفِرُ اللهَ کہتا پھرے اور دل کو خبر تک نہ ہو۔ یا درکھو کہ خدا تک وہی بات پہنچتی ہے جو دل سے نکلتی ہے۔ اپنی زبان میں ہی خدا سے بہت دعائیں مانگنی چاہئیں ۔ اس سے دل پر بھی اثر ہوتا ہے۔ زبان تو صرف دل کی شہادت دیتی ہے۔ اگر دل پیدا ہو اور زبان بھی ساتھ مل جائے تو اچھی بات ہے۔ بغیر دل کے صرف زبانی دعائیں عبث ہیں ہاں دل کی دعا ئیں اصلی دعائیں ہوتی ہیں ۔ جب قبل از وقت بلا انسان اپنے دل ہی دل میں خدا سے دعائیں مانگتا رہتا ہے اور استغفار کرتا رہتا ہے تو پھر خداوند رحیم وکریم ہے وہ بلائل جاتی ہے۔ لیکن جب بلا نازل ہو جاتی ہے پھر نہیں ٹلا کرتی ۔ بلا کے نازل ہونے سے پہلے دعائیں کرتے رہنا چاہیے ۔ اور بہت استغفار کرنا چاہیے۔ اس طرح سے خدا بلا کے وقت محفوظ رکھتا ہے۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ کوئی امتیازی بات بھی دکھائے ۔ اگر کوئی شخص بیعت کر کے جاتا ہے اور کوئی امتیازی بات نہیں دکھاتا۔ اپنی بیوی کے ساتھ ویسا ہی سلوک ہے جیسا پہلے تھا اور اپنے عیال واطفال سے پہلے کی طرح ہی پیش آتا ہے تو یہ اچھی بات نہیں ۔ اگر بیعت کے بعد بھی وہی بد خلقی اور بدسلوکی رہی اور وہی حال رہا جو پہلے تھا تو پھر بیعت کرنے کا کیا فائدہ؟ چاہیے کہ بیعت کے بعد غیروں کو بھی اور اپنے رشتہ داروں اور ہمسائیوں کو بھی ایسا نمونہ بن کر دکھاوے کہ وہ بول اٹھیں کہ اب یہ وہ نہیں رہا جو پہلے تھا۔ خوب یا د رکھو اگر صاف ہو کر عمل کرو گے تو دوسروں پر تمہارا ضرور رعب پڑے گا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کتنا بڑا رعب تھا۔ ایک دفعہ کا فروں کو شک پیدا ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم