ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 228 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 228

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۸ جلد نهم فرمایا ۔ بعض منذر الہام اور خوابات ہوتے ہیں ۔ ان سے ڈر ہی لگ جاتا ہے۔ اپنے محبین کے لیے دعا فرمایا کہ مولوی صاحب کے کے واسطے دعا کرتے کرتے یہاں تک اثر ہوا کہ ہمیں خود بھی دست لگ گئے ۔ ہے ۲۰ را گست ۱۹۰۷ء (بوقت ظهر ) امانت داری ) مفتی محمد صادق صاحب نے عرض کیا کہ ایک شخص نے لکھا ہے کہ میں نے حضور کی خدمت میں دور و پیہ نقد اور ایک طلائی ڈنڈی بھیجی ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ ہاں پہنچ گئی ہے اور روپیہ بھی مل گئے ہیں مگر ہم نے تو امانت رکھ دی ہے کیونکہ معلوم نہیں اس نے کس لیے بھیجی ہے کچھ لکھا نہیں ۔ اس پر مفتی صاحب نے عرض کیا کہ اس نے لکھا ہے جہاں حضرت پسند فرمائیں خرچ کرلیں ۔ اولاد کے لیے باپ کی دعا فرمایا۔ باپ کی دعا اپنی اولاد کے لیے منظور ہوتی ہے۔ سید کے لیے زکوۃہ سوال ہوا کہ غریب یہ ہوا کی وہ زکوة لینے کا حق ہوتا ہے؟ فرمایا۔ اصل میں منع ہے۔ اگر اضطراری حالت ہو۔ فاقہ پر فاقہ ہو تو ایسی مجبوری کی حالت میں جائز ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ (الانعام : ١٢٠) حدیث سے فتوی تو یہ ہے کہ نہ دینی چاہیے اگر سید کو اور قسم کا رزق آتا ہو تو اسے زکوۃ لینے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ ہاں اگر اضطراری حالت ہو تو اور بات ہے۔ سے لے یعنی حضرت مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ (مرتب) الحکم جلد ا ا نمبر ۳۰ مورخه ۲۴ را گست ۱۹۰۷ صفحه ۵۰۴ سے الحکم جلد ا ا نمبر ۳۰ مورخه ۲۴ اگست ۱۹۰۷ صفحه ۵