ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 227 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 227

ملفوظات حضرت مسیح موعود مدبروں کو ہرا دے ۔ ۲۲۷ جلد نهم دمدار ستاره کا طلوع آجکل دمدار تار طلوع ہوتا ہے۔اس کے متعلق ایک شخص سے حضرت اقدس نے دریافت فرمایا کہ کیا آپ نے بھی دمدار ستارے دیکھے ہیں ۔ اس نے عرض کیا کہ حضور میں نے تو ابھی نہیں دیکھا۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ ضرور دیکھنا۔ آج ہی دیکھنا وہ ایک نہیں ہے دو ہیں۔ میں نے بھی دیکھے تھے۔ ایک چھوٹا ہے اور ایک بڑا ہے۔ تین بجے سے دکھائی دینا شروع ہوتا ہے۔ مفسروں نے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں جب بہت ستارے ٹوٹے تھے تو اس سے کچھ عرصہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ یہ جو ستارے وغیرہ ہوتے ہیں ان کا اثر زمین پر ضرور ہوتا ہے۔ میرے دعوئی سے پہلے اس قدر ستارے ٹوٹے تھے کہ ایسی کثرت آگے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ میں اس وقت دیکھ رہا تھا کہ ستاروں کی آپس میں ایک قسم کی لڑائی ہوتی تھی ۔ کوئی سو دو سو ایک طرف تھے اور سو دو سو ایک طرف تھے۔ ہمارے لیے گویا وہ ایک پیش خیمہ تھے۔ اِس طرف سے اُس طرف نکل جاتے تھے اور اُس طرف سے اس طرف نکل جاتے تھے۔ میرے خیال میں تو کسوف خسوف کا بھی خاص اثر زمین پر ہوتا ہے۔ دمدار ستارے کا پیدا ہونا ایک خارقِ عادت امر ہے۔ آسمان پر اس کا ظاہر ہونا ظاہر کرتا ہے کہ زمین پر بھی ضرور کوئی خارقِ عادت امر ظاہر ہوگا ۔ یہ زمین کے لیے شہادتیں ہوتی ہیں ۔ آئندہ زمین پر جو خارق عادت نشان ظاہر ہونے والے ہوتے ہیں ان کے لیے یہ پیش خیمہ ہوتے ہیں۔ اس طرف ہمیں الہام بھی ہو رہے ہیں کہ آئندہ خارق عادت نشان ظاہر ہونے والے ہیں اور کل جو میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک ستارہ ٹوٹا ہے اور سر پر آگیا ہے۔ میں نے خیال کیا تھا کہ ضرور اس کی کوئی تعبیر ہوگی ۔ ذوالسنین ستارہ کی نسبت جب نکلا تھا تو انگریزی اخبار والوں نے لکھا تھا کہ یہ وہی ستارہ ہے جو حضرت عیسی کے زمانہ میں طلوع ہوا تھا۔