ملفوظات (جلد 9) — Page 229
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۹ جلد نهم ۲۱ اگست ۱۹۰۷ء (بوقتِ ظہر ) طاعون کا نشان فرمایا۔ امریکہ کے ایک بڑے حصہ میں بڑی تیزی سے طاعون شروع ہوگئی ہے۔ ایسا ہی یورپ کے بعض حصوں کی نسبت بھی لکھا ہے۔ اصل میں یہ دونوں ملک آپس میں بہت آمد و رفت رکھتے ہیں ۔ ایک ہی طرح کا لباس ہے۔ ایک ہی بولی ہے اور تقریباً ایک ہی طرح کی سردی ہے۔ اخبار والوں نے بڑا خطرہ ظاہر کیا ہے کہ چونکہ یہ ملک سرد ہے اس لیے اندیشہ ہے کہ یہ بیماری زیادہ تباہی لاوے۔ ہماری پیشگوئی میں یورپ بھی ہے اور کا بل بھی ہے۔ سنا گیا ہے کہ کابل میں ہیضہ ہے۔ مگر اس سے کچھ نہیں ہوتا یہ کوئی عذاب نہیں ہے۔ پوری خبر تو طاعون ہی لیتی ہے ۔ دیکھوا بھی اس بیماری کا نام ونشان بھی نہ تھا تو میں نے اشتہار شائع کرا دیا تھا کہ پنجاب میں طاعون کے پودے لگائے گئے ہیں۔ ثناء اللہ کو بھی یہ اشتہار پہنچ گیا تھا۔ تاریخ کو دیکھ لو۔ ایک طرف طاعون کی آمد کی تاریخ اور دوسری طرف اشتہار کے طبع ہونے کی تاریخ موجود ہے ۔ اب گیارہ سال سے تباہی شروع ہے۔ کیا یہ انسانی کوشش اور طاقت کا کام ہے کہ اتنے بڑے واقعہ کی قبل از وقت خبر دے دے۔ اب یورپ، کابل وغیرہ کی باری آئی ہے مگر پھرے گی سارے جہان میں ۔ اللہ کریم فرماتا ہے۔ وَ اِنْ مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيمَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا عَذَابًا شَدِيدًا (بنی اسراءیل:۵۹) اس کے یہی معنے ہیں کہ طاعون آخری زمانہ میں تمام جہان میں دورہ کرے گی ۔ اور حدیث شریف میں لکھا ہے کہ اگر کسی گھر میں دس آدمی ہوں گے تو سات مر جائیں گے اور تین بچے رہیں گے اور یہ مہدی کی علامات میں سے ہے کہ اس کی مخالفت سے سخت طاعون پڑے گی ۔ عجیب بات ہے کہ خسوف کسوف کے رمضان میں واقع ہونے کی نسبت لکھا ہے کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ایسا کبھی نہیں ہوا۔ یہ ایک خارق عادت امر ہے پھر یہ زلزلے اور طاعون بھی خارق عادت امور ہیں ۔ مگر یہ نہیں سوچتے اور نشان پرنشان مانگتے ہیں یہ ان کے لیے اچھے تو نہیں ہوں گے۔ خدا تعالیٰ