ملفوظات (جلد 9) — Page 199
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۹ جلد نهم جاویں تو کیا یہ جائز ہے جبکہ حضور کی تعلیم ہے کہ اپنی زبان میں دعائیں نماز میں کر لیا کرو۔ فرمایا۔ دعا کو بآواز بلند پڑھنے کی ضرورت کیا ہے۔ خدا تعالیٰ نے تو فرمایا تَضَرُّعًا وَ خُفْيَةً (الاعراف: ۵۶) اور دُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ (الاعراف : ٢٠٦) عرض کیا کہ قنوت تو پڑھ لیتے ہیں ۔ فرمایا۔ ہاں ادعیہ ماثورہ جو قرآن وحدیث میں آچکی ہیں وہ بیشک پڑھ لی جاویں ۔ باقی دعائیں جو اپنے ذوق و حال کے مطابق ہیں وہ دل ہی میں پڑھنی چاہئیں۔ جو کنویں کو پاک کرنے کے بارہ اصولی فتوی سوال ہوا کہ یہ و مسلہ ہے کہ جب چوہا یا بلی یا مرغی یا بکری یا آدمی کنوئیں میں مر جاویں اویں تو اتنے دلو پانی نکالنے چاہئیں ۔ اس کے متعلق حضور کا کیا ارشاد ہے؟ پہلے تو ہمارا یہی عمل تھا کہ جب تک رنگ ، بو، مزا نہ بدلے پانی کو پاک سمجھتے ۔ فرمایا۔ ہمارا تو وہی مذہب ہے جو احادیث میں آیا ہے۔ یہ جو حساب ہے کہ اتنے دلو نکالو اگر فلاں جانور پڑے اور اتنے اگر فلاں پڑے۔ یہ ہمیں تو معلوم نہیں اور نہ اس پر ہمارا عمل ہے۔ عرض کیا گیا کہ حضور نے فرمایا ہے جہاں سنت صحیحہ سے پتا نہ ملے وہاں حنفی فقہ پر عمل کرلو۔ فرمایا ۔ فقہ کی معتبر کتابوں میں بھی کب ایسا تعین ہے ہاں نجات المومنین میں لکھا ہے۔ سواس میں تو یہ بھی لکھا ہے ۔ سر ٹوئے وچہ دے کے بیٹھ نماز کرے کیا اس پر کوئی عمل کرتا ہے اور کیا یہ جائز ہے جبکہ حیض و نفاس کی حالت میں نما ز منع ہے۔ پس ایسا ہی یہ مسئلہ بھی سمجھ لو۔ میں تمہیں ایک اصل بتا دیتا ہوں کہ قرآن مجید میں آیا ہے ۔ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ (المدثر : ٢ ) پس ५: جب پانی کی حالت اس قسم کی ہو جائے جس سے صحت کو ضرر پہنچنے کا اندیشہ ہو تو صاف کر لینا چاہیے۔ مثلاً پٹے پڑ جاویں یا کیڑے وغیرہ (حالانکہ اس پر یہ ملاں نجس ہونے کا فتویٰ نہیں دیتے ) باقی یہ کوئی