ملفوظات (جلد 9) — Page 198
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۸ جلد نهم چاہیے کہ گورنمنٹ کے متعلق اپنے رویہ کو ہمیشہ کے واسطے درست کر لیں ۔ فرمایا۔ علم طب کی بنا بھی ظنیات پر ہے۔ جب علم طب کی بنیاد نیات پر ہے مرض الموت آتی ہے توکوئی دو اشنانہیں دی بلکہ ہر ایک دوا الٹی پڑتی ہے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ شفا دینا چاہتا ہے تو معمولی دوائی بھی کارگر ہو جاتی ہے۔' ور جولائی ۱۹۰۷ ء نسل افزائی کے لیے سانڈ رکھنا ایک شخص نے سوال کیا کہ خالص لوجہ الہ نہ افزائی کی نیت اگر کوئی سانڈ چھوڑے تو کیا یہ جائز ہے؟ فرمایا - أَصْلُ الْأَشْيَاءِ إِبَاحَةُ - اشیاء کا اصل تو اباحت ہی ہے۔ جنہیں خدا تعالیٰ نے حرام فرمایا وہ حرام ہیں باقی حلال۔ بہت سی باتیں نیت پر موقوف ہیں ۔ میرے نزدیک تو یہ جائز بلکہ ثواب کا کام ہے۔ عرض کیا گیا کہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ فرمایا۔ میں نے جواب دیتے وقت اسے زیر نظر رکھ لیا ہے۔ وہ تو دیوتوں کے نام پر دیتے۔ یہاں خاص خدا تعالیٰ کے نام پر ہے۔ نسل افزائی ایک ضروری بات ہے۔ خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں انعام وغیرہ کو اپنی نعمتوں سے فرمایا ہے۔ سو اس نعمت کا قدر کرنا چاہیے اور قدر میں نسل کا بڑھانا بھی ہے۔ پس اگر ایسا نہ ہو تو پھر چار پائے کمزور ہوں گے اور دنیا کے کام بخوبی نہ چل سکیں گے اس لیے میرے نزدیک تو حرج کی بات نہیں ۔ ہر ایک عمل نیت پر موقوف ہے۔ ایک ہی کام جب جب کے کسی غیر اللہ کے نام پر ہو تو حرام اور اگر اللہ کے لیے ہو تو حلال ہو جاتا ہے۔ بآواز بلند ا پنی زبان میں دعا ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور امام اگر اپنی زبان میں ( مثلاً اردو میں ) بآواز بلند دعا مانگتا جائے اور پچھلے آمین کرتے ۱ بدر جلد ۶ نمبر ۲۸ مورخہ ۱۱ جولائی ۱۹۰۷ صفحہ ۶۰۵