ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 200 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 200

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۰ جلد نهم مقدار مقرر نہیں ۔ جب تک رنگ، بو و مز انجاست سے نہ بدلے وہ پانی پاک ہے۔ لے ۱۲ جولائی ۱۹۰۷ء (قبل از خطبه جمعه) احسان اور دعا باہر سے آئے ہوئے ایک شخص نے عرض کیا کہ حضور میری بیوی کسی صورت میں مسلمان نہیں ہوتی ۔ کیا کروں میں تو اسے بہتیر اسمجھا چکا ہوں ۔ فرمایا۔ دیکھو ! زبانی وعظوں سے اتنا اثر نہیں ہوتا جتنا اپنی حالت درست کر کے اپنے تئیں نمونہ بنانے سے ۔ تم اپنی حالت کو ٹھیک کرو اور ایسے بنو کہ لوگ بے اختیار بول اٹھیں ( کہ ) اب تم وہ نہیں رہے۔ جب یہ حالت ہو گی تو تمہاری بیوی کیا کئی لوگ تمہارا مذہب قبول کر لیں گے ۔ حدیث میں آیا ہے خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِہ ۔ پس جب بیوی سے تمہارا اچھا سلوک ہوگا تو وہ خود بخود محجوب ہو کر تمہاری مخالفت چھوڑ دے گی اور دل سے جان لے گی کہ یہ مذہب بہت ہی اچھا ہے جس میں ایسے نرم و عمدہ سلوک کی ہدایت ہوتی ہے پھر وہ خواہ مخواہ متابعت کرے گی ۔ احسان تو ایسی چیز ہے کہ اس سے ایک کتا بھی نادم ہو جاتا ہے چہ جائیکہ ایک انسان ۔ ہوجا اس نے عرض کی کہ حضور وہ تو کبھی نہیں ماننے کی ۔ فرمایا۔ دیکھو! مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ خدا تعالیٰ جب کسی دل میں تبدیلی پیدا کرنا چاہتا ہے تو کسی چھوٹی سی بات سے کر دیتا ہے۔ دعا کرنی چاہیے کہ دل سے نکلی ہوئی دعا ضائع نہیں جاتی اور لطیف پیرایہ میں نصیحت بھی کرتے رہیں مگر سختی نہ کریں ۔ اسے سمجھائیں کہ ہمارا وہی اسلام دین ہے یہ کوئی نیا مذہب نہیں ۔ وہی نماز وہی روزہ وہی حج وہی زکوۃ صرف فرق اتنا ہے کہ یہ باتیں جو صرف جسم بے روح رہ گئی ہیں ۔ ہم ان میں اخلاص کی خاص روح پیدا کرنا چاہتے ہیں اور ان کے اثر جو مرتب نہیں ہوتے ہم چاہتے ہیں کہ ایسے طور سے ادا کئے جاویں کہ ان میں اثر پیدا ہوں ۔ عقیدہ میں یہ بات ہے کہ حضرت عیسی کو ہم اور نبیوں کی طرح فوت شدہ مانتے ہیں اور ایک مسلمان کی محبت جو اسے اپنے متبوع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے وہ اس بات کی متقاضی ہے کہ جب آپ فوت بدر جلد ۶ نمبر ۳۱ مورخہ یکم اگست ۱۹۰۷ صفحه ۸