ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 197 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 197

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۷ جلد نهم اگر یہ کلام ہم پر خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل نہ ہوتا اور ہمارا افترا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کلمہ کے مطابق ہمارے گھر کی حفاظت کیوں کرتا؟ جبکہ ایک کلام صریح الفاظ میں پورا ہو گیا ہے تو پھر اس کے ماننے میں کیا شک ہے؟ لیکن ہم نے مخالفین کے واسطے فیصلہ کی دوسری راہ بھی بیان کر دی ہے کہ جو شخص یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ یہ انسان کا افترا ہے تو اسے لازم ہے کہ وہ قسم کھا کر انا قسم کھا کر ان الفاظ کے ساتھ بیان کرے کہ یہ انسان کا افترا ہے۔ خدا کا کلام نہیں وَلَعْنَةُ اللهِ عَلَى مَنْ كَذَّبَ وَحْيَ اللهِ ۔ اگر کوئی شخص ایسی قسم کھاوے تو خدا تعالیٰ اس قسم کا نتیجہ ظاہر کر دے گا۔ چاہیے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب اور جعفر زٹلی لاہوری اور ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب اور غزنوی صاحبان بہت جلد اس کی طرف توجہ کریں ۔ دو ایک الہام کی تشریح ایک وال پیش ہو کہ حضور جو الہام ہوا ہے قرآن خدا کا کلام ہےاور میرے منہ کی باتیں ۔“ اس الہام الہی میں میرے کی ضمیر کس کی طرف پھرتی ہے۔ یعنی کس کے منہ کی باتیں؟ فرمایا۔ خدا کے منہ کی باتیں ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے منہ کی باتیں۔ اس طرح کے ضمائر کے اختلاف کی مثالیں قرآن شریف میں موجود ہیں ۔ فرمایا۔ بعض رؤیا یا الہامات ظاہر الفاظ میں مندر ہوتے ہیں اور مہم اس وقت ڈر جاتا ہے اور خوف کھاتا ہے مگر دراصل اس کے معنے کچھ اور ہوتے ہیں ۔ ایک دفعہ ہم کو سخت درد گردہ تھا۔ کسی دوا سے آرام نہ ہوتا تھا۔ الہام ہوا ۔ الوداع اس کے بعد درد بالکل یک دفعہ بند ہو گیا۔ تب معلوم ہوا کہ یہ الوداع درد کا تھا۔ آریہ کب سمجھیں گے فرمایا۔ بعض اخبارات کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ لاجپت رائے اور اجیت سنگھ کی جلا وطنی سے آریوں کو پورے طور پر نصیحت حاصل نہیں ہوئی ۔ اس واقعہ کو وہ صرف ایک شخصی وبال خیال کرتے ہیں اور قومی وبال نہیں سمجھتے۔ یہ ان کی غلطی ہے۔ گورنمنٹ ان لوگوں کے ایسے حالات دیکھ کر اب ان کی نسبت ضرور محتاط رہے گی ۔ ان کو