ملفوظات (جلد 9) — Page 196
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۶ جلد نهم وہ جس نے اپنی جان پر ظلم کیا وہ کہاں بھاگ کر جائے گا اور اس ظلم کی سزا سے کس طرح بچ سکے گا ؟ مبارک ہے وہ جو دین کو اور خدا کو سب چیزوں پر مقدم رکھتا ہے کیونکہ خدا بھی اسے مقدم رکھتا ہے۔ حقیقۃ الوحی کو غور سے پڑھیں فرمایا۔ ہمارے دوستوں کو چاہیے کہ حقیقۃ الوی کو اول سے سے آخر تک بغور پڑھیں بلکہ اس کو یاد کر لیں کوئی مولوی ان کے سامنے نہیں ٹھہر سکے گا کیونکہ ہر قسم کے ضروری امور کا اس میں بیان کیا گیا ہے اور اعتراضوں کے جواب دیئے گئے ہیں ۔ کی ایک خواجہ غلام فرید صاحب کا ذکر خیر فرمایا۔ خواجہ غلام فرید صاحب کی سواح کی کتاب لکھی گئی ہے۔ اس میں خواجہ صاحب نے جا بجا ہماری تائید کی ہے۔ ایک جگہ لکھا ہے کہ بعض مولویوں نے خواجہ صاحب مرحوم سے دریافت کیا تھا کہ آپ کیوں ان کی تائید کرتے ہیں مولوی لوگ تو ان کو کافر قرار دیتے ہیں۔ تو انہوں نے کیا خوب جواب دیا کہ مولوی لوگوں نے پہلے کس کو مانا ہے اور کس کو کافر قرار نہیں دیا ؟ ان کا تو کام ہی یہ ہے ان کی طرف خیال مت کرو۔ فیصلہ کی آسان راہ ایک صاحب نے حضرت کی خدمت میں ذکر کیا کہ حضور کی اس تحریر پر جو اخبار میں چھپی ہے کہ ”اگر ہمارے مکذب ہمارے شائع کردہ الهام البي اني أحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ کو افتر اسمجھتے ہیں اور یقین کرتے ہیں کہ محض اپنے دل سے یہ بات بنائی ہے اور یہ خدا تعالیٰ کا کلام نہیں جو ہم پر نازل ہوا ہے اور صرف اتفاقی طور پر ہمارے گھر کی حفاظت ہو رہی ہے تو چاہیے کہ ہمارے مکذبوں میں سے بھی کوئی ایسا الہام شائع کرے تب اس کو جلد معلوم ہو جاوے گا کہ افترا کا کیا نتیجہ ہے۔ اس بات کو پڑھ کر بعض مخالف 66 یہ کہتے ہیں کہ ہم مفتری نہیں ہیں جو خدا تعالیٰ پر افترا کریں ۔ ہم کس طرح ایسا الہام شائع کر سکتے ہیں؟ حضرت نے فرمایا۔ یہی بات ہے جو ہم ان کو سمجھانا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر افترا کر کے کوئی شخص بیچ نہیں سکتا۔