ملفوظات (جلد 9) — Page 195
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۵ جلد نهم انبیاء کو مانتے تھے مگر آنحضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ ماننے کے سبب وہ کافر قرار دیئے گئے۔ اس زمانہ کے لوگ جو نہ صرف ہمارے مخالف ہیں بلکہ ہم کو کافر قرار دیتے ہیں وہ بموجب حدیث نبوی مومن کو کافر کہہ کر خود کافر بنتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے ۔ معلق مال پر زکوۃ واجب نہیں ایک صاحب نے دریافت کیا کہ تجارت کا مال جو ہے جس میں بہت سا حصہ خریداروں کی طرف ہوتا ہے اور اُگراہی میں پڑا ہوتا ہے اس پر زکوۃ ہے یا نہیں؟ فرمایا۔ جو مال معلق ہے اس پر زکوۃ نہیں جب تک کہ اپنے قبضہ میں نہ آجائے لیکن تاجر کو چاہیے کہ حیلے بہانے سے زکوۃ کو نہ ٹال دے۔ آخر اپنی حیثیت کے مطابق اپنے اخراجات بھی تو اسی مال میں سے برداشت کرتا ہے۔ تقویٰ کے ساتھ اپنے مال موجودہ اور معلق پر نگاہ ڈالے اور مناسب زکوۃ دے کر خدا تعالیٰ کو خوش کرتا رہے۔ بعض لوگ خدا کے ساتھ بھی حیلے بہانے کرتے ہیں ۔ یہ درست نہیں ہے۔ - دین کو دنیا پر مقدم رکھنا چاہیے فرمایا۔ دین کو دنیا پر مقدم رھنا نہایت مشکل امر ہے۔ ہ کہنے کو تو انسان کہہ لیتا ہے اور اقرار بھی کر لیتا ہے مگر اس کا پورا کرنا ہر ایک کا کام نہیں۔ دین کو دنیا پر مقدم رکھنا اس طرح سے پہچانا جاتا ہے کہ جب انسان کا دنیوی مال میں نقصان ہو تو کس قدر درد اس کے دل کو پہنچتا ہے اور اس کے بالمقابل جب کسی دینی امر میں نقصان ہو جائے تو پھر کس قدر درد اس کے دل کو ہوتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ اس شناخت کے واسطے اپنے دل کو ہی تراز و بنائے کہ دنیاوی نقصان کے واسطے وہ کس قدر بے قرار ہوتا ہے اور چیختا چلاتا ہے اور پھر دینی نقصان کے وقت اس کا کیا حال ہوتا ہے؟ بد ہے وہ شخص جو دوسرے کو دھوکا دیتا ہے مگر بدتر وہ ہے جو اپنے آپ کو بھی دھوکا دیتا ہے ۔ دین کو مقدم نہیں کرتا اور خیال کرتا ہے کہ میں دین کو مقدم کئے ہوئے ہوں۔ وہ سچے طور پر خدا تعالیٰ کا فرمانبردار نہیں بنا اور ظن کرتا ہے کہ میں مسلمان ہوں ۔ جو شخص دوسرے پر ظلم کرتا ہے ممکن ہے وہ ظلم کر کے بھاگ جائے اور اس طرح اپنے آپ کو بچائے مگر