ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 194 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 194

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۴ جلد نهم بلا تاریخ حضرت کی خدمت میں سوال پیش ہوا کہ کیا یہ جس کے ہاں ماتم ہو اس کے ساتھ ہمدردی جائز ہے کہ جب کار فنا کسی بھائی کے گھر قضا میں ماتم ہو جائے تو دوسرے دوست اپنے گھر میں اس کا کھانا تیار کریں۔ فرمایا۔ نہ صرف جائز بلکہ برادرانہ ہمدردی کے لحاظ سے یہ ضروری ہے کہ ایسا کیا جاوے۔ ۶ جولائی ۱۹۰۷ء فرمایا۔ دجال کی دوشانیں ہیں ۔ ایک تو پادری لوگ ہیں جو گو یا نبوت کا دجال کے دو مظاہر دعوی کرتے ہیں۔ ہرقس کے کمر اور غریب کے ساتھ لوگوں کو برکاتے ہیں اور عیسائی بناتے ہیں۔ خود انجیل اور تورات کا ترجمہ در ترجمہ کرتے ہیں۔ اصل کتاب ان کے پاس موجود نہیں۔ تراجم میں ہمیشہ تبدیلیاں کرتے ہیں اور انہیں اپنے خیالات کے الفاظ کو دنیا کے سامنے پیش کر کے بیان کرتے ہیں کہ خدا کا کلام ہے یہ ایک طرح نبوت کا دعوی ہے۔ دوسرے اس زمانہ کے فلسفی لوگ ہیں جو کہ خدا تعالیٰ کے ہی منکر ہو بیٹھے ہیں اور رات دن مادی دنیا کی طرف ایسے جھکے ہوئے ہیں کہ دین کو کچھ نہیں سمجھتے بلکہ دین کو غیر ضروری اور اپنی دنیوی ترقی کی راہ میں ایک خارج یقین کرتے ہیں فرمایا۔خدا تعالیٰ کی عدول حکمی سے کوئی شخص کس مانناضروری ہے فرمایا۔ تعالی کی عدل بھی وقت کے مرسل کو ماننا ضروری ہے طرح پک سکتا ہے۔ جولوگ اس زمانہ میں خدا تعالی کے مرسل کو نہیں مانتے وہ خدا تعالیٰ کی عدول حکمی کرتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو یہود اور عیسائی تھے وہ صاحب شریعت تھے ۔ نمازیں پڑھتے تھے، روزے رکھتے تھے۔ تمام ل بدر جلد ۶ نمبر ۲۸ مورخہ ۱۱ جولائی ۱۹۰۷ ء صفحہ ۳