ملفوظات (جلد 9) — Page 193
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۳ جلد نهم بعد صحیح احادیث پر عمل کرنا ہی ضروری سمجھتا ہوں ۔ خیر وہ شخص چند دن کے بعد چلا گیا۔ اس کے بعد ایک دفعہ لاہور میں مجھ کو پھر ملا۔ اگر چہ وہ وہابیوں کی صورت دیکھنے کا بھی روادار نہ تھا مگر چونکہ اس کی تواضع اچھی طرح سے کی تھی اس لیے اس کا وہ تمام جوش و خروش دب گیا اور وہ بڑی مہربانی اور پیار سے مجھ کو ملا۔ چنانچہ بڑے اصرار کے ساتھ مجھ کو ساتھ لے گیا اور ایک چھوٹی سی مسجد میں جس کا کہ وہ امام مقرر ہوا تھا مجھ کو بٹھلایا اور خود نوکروں کی طرح پنکھا کرنے لگا اور بہت خوشامد کرنے لگا کہ کچھ چائے وغیرہ پی کر جاویں۔ پس دیکھو کہ احسان کس قدر دلوں کو مسخر کر لیتا ہے ۔ لے ایک صاحب کی لڑکی بیمار تھی ۔ انہوں نے اس کی دعا کے لیے تار بھیجا اخلاص کی ایک علامت تھا۔ آپ نے اس کو پڑھ کر فرمایا کہ دیکھو یہ لوگ ہم سے کتنا اخلاص رکھتے ہیں ۔ جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو جھٹ ہماری طرف آتے اور دعا کے خواستگار ہوتے ہیں ۔ میں دعا کروں گا ۔ آگے شفا خدا کے اختیار میں ہے۔ چند دن گا۔ 66 ہوئے مجھ کو الہام ہوا تھا کہ لاہور سے ایک افسوسناک خبر آئی ۔ چنانچہ یہ چھپ بھی چکا ہے اور اس الہام کی وجہ سے ہم نے ایک آدمی لاہور بھیج کر پچھوا یا بھی تھا کہ وہاں کے دوستوں کا کیا حال ہے؟ مگر کیا معلوم تھا کہ یہ چند دن کے بعد پورا ہوگا ۔ ہے لنگر خانہ کی اہمیت فرمایا۔ آجکل لگ لنگرکی طرف بہت کم توجہ کرتے ہیں اور دوسری مدات کی طرف بہت متوجہ ہیں ۔ حالانکہ سب سے ضروری مد یہی ہے کیونکہ اس کی وجہ سے بہت سے لوگ علم حاصل کرتے ہیں ۔ بعض دفعہ کئی کئی دن تک ایک ایک دو دو روپیہ ہی آتے ہیں اور خرچ دوسرے دن کا سو روپیہ ہوتا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسری مدات کی تحریکات ہمیشہ ہوتی رہتی ہیں اور لنگر کی کوئی تحریک نہیں ہوتی ۔ سے لے قیاس ہے کہ غالباً یہ دونوں واقعات حضور علیہ السلام کے دعوئی ماموریت سے پہلے کے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب (خاکسار مرتب) کے نوٹ از ایڈیٹر صاحب بدر۔ چنانچہ چند روز کے بعد خبر آئی کہ مریض فوت ہو گیا ہے چونکہ وہ ایک معصوم بچہ تھا خدا تعالیٰ نے اس کو بخش ہی دیا ہو گا ۔ خدا اس کے والدین کو اس کا نعم البدل عطا فرمائے ۔ آمین (ایڈیٹر ) سے بدر جلد ۶ نمبر ۲۷ مورخہ ۴ جولائی ۱۹۰۷ء صفحہ ۷