ملفوظات (جلد 9) — Page 170
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۰ جلد نهم مقام لولاک کی حقیقت لَوْلاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْأَفَلَاكَ میں کیا مشکل ہے؟ قرآن مجید میں ہے خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا (البقرۃ:۳۰) زمین میں جو کچھ ہے وہ عام آدمیوں کی خاطر ہے تو کیا خاص انسانوں میں سے ایسے نہیں ہو سکتے کہ ان کے لیے افلاک بھی ہوں؟ دراصل آدم کو جو خلیفہ بنایا گیا تو اس میں یہ حکمت بھی تھی کہ وہ اس مخلوقات سے اپنے منشا کا خدا کی رضا مندی کے موافق کام لے اور جن پر اس کا تصرف نہیں وہ خدا کے حکم سے انسان کے کام میں لگے ہوئے ہیں سورج ، چاند، ستارے وغیرہ ۔ ہندوؤں کی حکومت کیا انصاف کرے گی؟ آریہ اوربنگالیوں کی شور کا ذکر تھا۔ فرمایا۔ ان کے خیالات و حرکات سے ہمیں قطعی نفرت ہے۔ ہماری جماعت کو بالکل ان سے الگ رہنا چاہے۔ تعجب کی بات ہے کہ جو قوم حیوان کو انسان پر ترجیح دیتی ہو اور ایک گائے کے ذبح سے انسان کا خون کر دینا کچھ بات نہ سمجھتی ہو۔ وہ حاکم ہو کر کیا انصاف کرے گی ۔ ه مردان خدا۔ خدا نه باشند لیکن از خدا جدا نه باشند خدا تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے وہ کام دکھلاتا ہے کہ دنیا حیران رہ جاتی ہے۔ اے بلا تاریخ فاتحہ خوانی سوال پیش ہوا کہ کسی کے مرنے کے بعد چند روز لوگ ایک جگہ جمع رہتے اور فاتحہ خوانی کرتے ہیں۔ فاتحہ خوانی ایک دعائے مغفرت ہے پس اس میں کیا مضائقہ ہے؟ فرمایا کہ ہم تو دیکھتے ہیں وہاں سوائے غیبت اور بے ہودہ بکو اس کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ پھر یہ سوال ہے کہ آیا نبی کریم یا صحابہ کرام وائمہ عظام میں سے کسی نے یوں کیا ؟ جب نہ یوں کیا ؟ جب نہیں کیا تو کیا ضرورت ہے خواہ مخواہ بدعات کا دروازہ کھولنے کی؟ ہمارا مذہب تو یہی ہے کہ اس رسم کی کچھ ضرورت نہیں۔ ا بدر جلد ۶ نمبر ۱۹ مورخه ۹ رمئی ۱۹۰۷ ء صفحه ۵