ملفوظات (جلد 9) — Page 171
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۱ جلد نهم نا جائز ہے جو جنازہ میں شامل نہ ہوسکیں وہ اپنے طور سے دعا کریں یا جنازہ غا ۲۶ را پریل ۱۹۰۷ء او یا جنازہ غائب پڑھ دیں ۔ اے نماز مغرب میں آدمیوں کی کثرت کی وجہ سے پیش امام صاحب کی آواز آخری ایک فقہی مسئلہ نماز مغرب : صفوں تک نہ پہنچ سکنے کے سبب درمیانی صفوں میں سے ایک شخص حسب معمول تکبیر کا بآواز بلند تکرار کرتا جاتا تھا۔ آخری رکعت میں جب سب التحیات بیٹھے تھے اور دعائے التحیات اور درود شریف پڑھ چکے تھے اور قریب تھا کہ پیش امام صاحب سلام کہیں مگر ہنوز انہوں نے سلام نہ کہا تھا کہ درمیانی مکبر کو غلطی لگی اور اس نے سلام کہہ دیا جس پر آخری صفوں کے نمازیوں نے بھی سلام کہہ دیا اور بعض نے سنتیں بھی شروع کر دیں کہ امام نے سلام کہا اور درمیانی مکبر نے جو اپنی غلطی پر آگاہ ہو چکا تھا دوبارہ سلام کہا۔ اس پر ان نمازیوں نے جو پہلے سے سلام کہہ چکے تھے اور نماز سے فارغ ہو چکے تھے مسئلہ دریافت کیا کہ آیا ہماری نماز ہو گئی یا ہم دوبارہ نماز پڑھیں ۔ صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب نے جو خود بھی پچھلی صفوں میں تھے اور امام سے پہلے سلام کہہ چکے ہوئے تھے فرمایا کہ یہ مسئلہ حضرت مسیح موعود سے دریافت کیا جا چکا ہے اور حضرت نے فرمایا ہے کہ آخری رکعت میں التحیات پڑھنے کے بعد اگر ایسا ہو جائے تو مقتدیوں کی نماز ہو جاتی ہے۔ دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ۔ سوال پیش ہوا کہ بعض مساجد اس قسم کی ہیں کہ وہاں احمدی اور غیر احمدی کو ایک مسجد میں دو جمعے اپنی جماعت اپنے امام کے ساتھ الگ الگ کرا لینے کا اختیار قانو نا یا باہمی مصالحت سے حاصل ہوتا ہے تو ایسی جگہ جمعہ کے واسطے کیا کیا جاوے؟ کیونکہ ایک مسجد میں دو جمعے جائز نہیں ہو سکتے ۔ فرمایا ۔ جو لوگ تم کو کافر کہتے ہیں اور تمہارے پیچھے نماز نہیں پڑھتے وہ تو بہر حال تمہاری اذان بدر جلد ۶ نمبر ۱۹ مورخه ۹ مئی ۱۹۰۷ ء صفحه ۵