ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 168 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 168

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۸ جلد نهم ایک شخص کا ذکر تھا کہ جو سلسلہ حقہ کے ساتھ ہنسی کیا کرتا تھا اور اب طاعون ٹھٹھا کرنے کا انجام میں اس کا پتا اور نیا ر کیا ہے۔ میں مر کا با فرمایا۔ خدا کے رسولوں کے ساتھ ہنسی کرنے والا مرتا نہیں جب تک کہ وہ نشانات کا نمونہ اپنے پر وارد ہوتا ہوا نہ دیکھ لے۔ ایک شخص حضرت کی خدمت میں آیا۔ اس نے سر نیچے جھکا کر آپ کے سجدہ تعظیم نا جائز ہے - پاؤں پر رکھنا چاہا۔ حضرت نے ہاتھ ۔ پاؤں پر رکھنا چاہا۔ حضرت نے ہاتھ کے ساتھ اس کے سر کو ہٹایا اور فرمایا۔ یہ طریق جائز نہیں ۔ السلام علیکم کہنا اور مصافحہ کرنا چاہیے۔ ہے ۲۱ را پریل ۱۹۰۷ء (بوقتِ سیر) تفقہ فی الدین کی ضرورت فرمایا۔ ہماری جماعت کولی دین میں تفقہ پیدا کرنا چاہیے۔ مگر اس کے وہ معنے نہیں جو عام ملاں لوگوں نے سمجھ رکھے ہیں کہ استنجا وغیرہ کے چند مسائل آگئے وہ بھی تقلیدی رنگ میں فقیہ بن بیٹھے۔ بلکہ ہمارا مطلب یہ ہے کہ وہ آیات قرآنی و احادیث نبوی اور ہمارے کلام میں تدبر کریں۔ قرآنی معارف و حقائق سے آگاہ ہوں ۔ اگر کوئی مخالف ان پر اعتراض کرے تو اسے کافی جواب دے سکیں ۔ ایک دفعہ جو امتحان لینے کی تجویز کی گئی تھی بہت ضروری تھی۔ اس کا ضرور بند و بست ہونا چاہے۔ حقیقۃ الوحی اس مطلب کے لیے بہت مفید کتاب ہے اصل میں مسلمانوں کے لیے تو یہی جواب کافی ہے کہ تم کوئی ایسا اعتراض اس سلسلہ پر کر کے دکھاؤ جو اور انبیاء علیہم السلام پر نہ ہو سکے وہ ہرگز کوئی ایسا اعتراض نہیں کر سکیں گے۔ وعیدی پیر پیشگوئی مل سکتی ہے یہ قم یا احد بی والی پیشگوئیوں پرتو اعتراض کرتے ہیں مگر ہے دوسری پیشگوئیوں اور نشانیوں کا ذکر تک نہیں کرتے ۔ یہ کیسی ۱ بدر جلد ۶ نمبر ۲۶ مورخہ ۲۷ جون ۱۹۰۷ ء صفحہ ۷ ۲ بدر جلد ۶ نمبر ۳۲ مورخه ۸ را گست ۱۹۰۷ ء صفحه ۵