ملفوظات (جلد 9) — Page 167
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۷ جلد نهم تھا وہ کیا ہوا ؟ وہ سب کیوں دریا برد ہو گئے؟ کہاں گئے اس کے وہ دعوے کہ یہ سلسلہ میرے سامنے تباہ ہوگا ؟ عجیب بات ہے کہ موسیٰ تو طوفانِ طاعون میں غرق ہو گیا اور فرعون جیتا موجود ہے۔ انداری الہام تو پورا ہوا یا نہ ہوا مگر وہ مبشرات کیا ہوئے ۔ انذاری خبر تو بجائے خود ایک عذاب ہے۔ جس شخص کو بتا دیا جائے کہ تین دن بعد تم پھانسی ملو گے اس کے دل پر جو گذرتی ہے اور گذر نی چاہیے وہ ہر ایک شخص جانتا ہے۔ الہام تو وہ ہوتا ہے جس سے کچھ تسکین وراحت ہو نہ کہ الٹا عذاب ۔ اپنے پر عذاب کی خبر پہلے ہو جانا تو معمولی بات ہے۔ جنگ بدر سے پہلے ایک عورت مشرکہ کو خواب آیا تھا کہ ہمارے خیموں کے نیچے لہو بہہ رہا ہے۔ آخر وہ بات پوری ہوگئی تو کیا اس سے وہ نبیہ سمجھ لیا جاوے؟ ممکن ہے الرَّحِیل شیطان نے کہا ہو کہ لواب میں رخصت ہوتا ہوں جیسا کہ لکھا ہے کہ جب عذاب دیکھے گا تو شیطان کہے گا میں تم سے جدا ہوتا ہوں کیونکہ میں وہ کچھ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے۔ مقابل سختی شمن سے نرم گفتاری کی تلقین فرمایا۔ دشمن اگر سخت کلامی کرے تو اس کے مقام ہو جاتی ہے۔ کرنے سے فائدہ نہیں کیونکہ سخت الفاظ سے برکت دور فرمایا۔ ثناء اللہ کے واسطے بھی ہم نے تو بہ کی شرط لگا دی ہے کیونکہ رحم کا مقتضا ہوتا رقم کا مقتضا ہے کہ تو بہ سے انسان بچ جاوے۔ لے ۷ را پریل ۱۹۰۷ء ( قبل ظهر ) نشانات کا ظہور فرمایا۔ اللہ تعالیٰ تعالیٰ کی قدرتیں اس کے نشانات کے ذریعہ سے ظاہر ہو رہی ہیں ۔ اگر یہ معجزات اور نشانات جو اس وقت ظاہر ہورہے ہیں ایک شخص کے ایمان کے واسطے کافی نہیں تو پھر کسی نبی کے ماننے کے واسطے کوئی راہ دنیا میں باقی نہیں رہتی ، اگر معجزات اور خوارق کسی کی سچائی کے واسطے کافی نہیں تو پھر کسی نبی کے ثبوت کے واسطے کوئی دلیل قائم نہیں رہتی ۔ بدر جلد ۶ نمبر ۱۹ مورخه ۹ رمئی ۱۹۰۷ ء صفحه ۴، ۵