ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 166 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 166

ملفوظات حضرت مسیح موعود خدا کی طرف سے ہے۔ 1۶۶ جلد نهم اس کے بعد حضرت اقدس علیہ السلام نے اپنا الہام يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ پیش کیا اور فرمایا کہ دیکھو کسی کے وہم و گمان میں بھی آسکتا تھا کہ اس قدر مخلوق الہی یہاں آئے گی کہ چلنا بھی دشوار اور سب سے مصافحہ کرنا بھی نا ممکن ہو جائے ۔ خدا کے نبی شہرت پسند نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنے تئیں چھپانا چاہتے ہیں۔ مگر الہی حکم انہیں باہر نکالتا ہے۔ دیکھو ! حضرت موسی کو جب مامور کیا جانے لگا تو انہوں نے پہلے عرض کیا کہ ہارون مجھ سے زیادہ افصح ہے ۔ پھر کہا وَ لَهُمْ عَلَى ذَنْبُ (الشعراء : ۱۵) مگر الہی منشا یہی تھا کہ وہی نبی بنیں اور وہی اس لائق تھے اس لیے حکم ہوا کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ۔ تم جاؤ اور تبلیغ کرو۔ ( بوقت ظهر ) ۱۳ ، ۱۴ را پریل کی درمیانی رات کو گیارہ بجے کے قریب سخت زلزلہ آنے ایک الہام کا پورا ہونا کے بہت سے خط آئے ہیں (جو پڑھ کرسنائے بھی گئے ) فرمایا۔ الہام پہلے ہو چکا تھا۔ کیا یہ کسی انسان کا کام ہے کہ پردہ غیب کی باتیں قبل از ظہور متواتر بتا تا جاوے اور پھر اسی طرح پوری ہو جاویں۔ اب جو لوگ نہیں مانتے وہ یقیناً بڑے مجرم ہیں۔ ایک نشان کے متعلق خطوط و خبروں کا سلسلہ ختم نہیں ہونے پاتا کہ دوسر ا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ کیا بات ہوئی کہ ہم افترا کرتے جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ اسے پورا کرتا جاتا ہے۔ کیا جب سے دنیا ہے۔ ہے کسی اور مفتری سے بھی ایسا سلوک ہوا ہے؟ کیا خدا تعالیٰ ہمارا محکوم ہے کہ ہم جو کچھ کہیں وہ پورا کر دے؟ آخر کچھ تو سوچنا چاہیے۔ یہ لوگ جب ایک نشان دیکھ کر دیدہ و دانستہ حق پوشی کرتے ہیں اور نہیں مانتے تو اللہ ایک اور نشان کی پیشگوئی کر دیتا ہے تا کہ ان پر اتمام حجت ہو۔ الہی بخش کی موت حکیم الامت کے نام امرتسر سےخط آیا تھا کہ ابی بن کو موت سے پہلے الرحيل کا الہام ہوا ۔ فرمایا۔ طاعون کے معنے ہی موت ہیں ۔ پس ایسی حالت میں تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اب میرا کوچ ہے۔ پھر ہم پوچھتے ہیں کہ بالفرض اگر یہ الہام پورا بھی ہو گیا تو اس سے پہلے جو الہاموں کا انبار