ملفوظات (جلد 9) — Page 161
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۱ جلد نهم (ہیں) ایک کہتا ہے ضرور ہے کہ انبیاء بہشت میں اور فاسقین جہنم میں پڑیں۔ دوسرا کہتا ہے کہ اکم تَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (البقرۃ: ۱۰۷) کی بنا پر چاہے تو انبیاء کو دوزخ میں ڈال دے۔ فرمایا ۔ اول الذکر حق پر ہے ۔ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِیر کے یہ معنے تو نہیں کہ اللہ تعالیٰ خودکشی پر بھی قادر ہے۔ اس طرح تو وہ اپنا بیٹا بنانے پر بھی قادر کہا جا سکتا ہے؟ پھر عیسائی مذہب کے اختیار کرنے میں کیا تامل ہے؟ یا درکھو! اللہ تعالیٰ بے شک قادر ہے مگر وہ اپنے تقدس اور ان صفات کے خلاف نہیں کرتا جو قدیم سے الہامی کتب میں بیان کی جا رہی ہیں گویا ان کے خلاف اس کی توجہ ہوتی ہی نہیں ۔ وہ ذات پاک اپنے مواعید کے خلاف بھی نہیں کرتا اور نہ اس طرف وہ متوجہ ہوتا ہے پس ازلی ابدی اس کی صفت ہر کتاب الہی میں پڑھ کر پھر اس بات کے امکان پر بحث کرنا کہ وہ خودکشی پر قادر ہے یا هُوَ اللهُ أَحَدٌ اللهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ ( الاخلاص: ۲ تا ۴) پڑھتے ہوئے پھر اس کے بیٹے کے امکان کا قائل ہونا نہایت لغو حرکت ہے۔ پس ایسی باتوں کے بارے میں اس بہانے سے گفتگو کرنا کہ ہم نفس امکان پر بحث کرتے ہیں سخت درجے کی گستاخی ہے۔ آنحضرت و ت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کا کروز مجرموں سے بڑھ کر معجزہ تو یہ تھا کہ جس غرض کے لیے آئے تھے اسے پورا کر گئے یہ ایسی بے نظیر کامیابی ہے کہ اس کی نظیر کسی دوسرے نبی میں کامل طور سے نہیں پائی جاتی ۔ حضرت موسیٰ بھی رستے ہی میں مر گئے اور حضرت مسیح کی کامیابی تو ان کے حواریوں کے سلوک سے ہویدا ہے۔ ہاں آپ کو ہی یہ شان حاصل ہوئی کہ جب گئے تو رَأَيْتَ النَّاس يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا ( النصر : ۳) یعنی دین اللہ میں فوجوں کی فوجیں داخل ہوتے دیکھ کر ۔ دوسرا معجزہ تبدیل اخلاق ہے کہ یا تو وہ أُولَئِكَ كَالأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ (الاعراف: ۱۸۰) چار پایوں سے بھی بدتر تھے یا يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَ قِيَامًا (الفرقان: ۶۵) رات نمازوں میں گزار نے والے ہو گئے ۔ ۱ بدر جلد ۶ نمبر ۱۷ مورخه ۲۵ را پریل ۱۹۰۷ صفحه ۹۰۸