ملفوظات (جلد 9) — Page 162
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۲ جلد نهم تیسرا معجزہ ۔ آپ کی غیر منقطع برکات ہیں۔ کل نبیوں کے فیوض کے چشمے بند ہو گئے۔ مگر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چشمہ فیض ابد تک جاری ہے چنانچہ اسی چشمہ سے پی کر ایک مسیح موعود اس امت میں ظاہر ہوا ۔ چوتھی یہ بات بھی آپ ہی سے خاص ہے کہ کسی نبی کے لیے اس کی قوم ہر وقت دعا نہیں کرتی مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت دنیا کے کسی نہ کسی حصہ میں نماز میں مشغول ہوتی ہے اور پڑھتی ہے اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ۔ اس کے نتائج برکات کے رنگ میں ظاہر ہو رہے ہیں۔ چنانچہ انہی میں سے سلسلہ مکالمات الہی ہے جو اس امت کو دیا جاتا ہے ۔ لے ۱۴ را پریل ۱۹۰۷ء (قبل عصر) صا۔ صداقت اسلام کے لیے طاعون کی تلوار میں بندروں میں ھی ان کی ماری تھی کہ طاعون حضرت نے فرمایا کہ براہین کے لکھنے کے زمانے میں خدا تعالیٰ نے ہم کو اس طاعون کے پڑنے کی خبر دی تھی۔ بد قسمت کفار کی ہمیشہ سے یہ عادت ہے کہ وہ انبیاء کے مقابلہ میں اپنی موت کا نشان مانگا کرتے ہیں ۔ اب ہمارے مخالفوں کا بھی یہی حال ہے ۔ اس واسطے خدا نے ان کے واسطے یہ تلوار بھیج دی ہے۔ دی ہے ۔ لوگ لکھتے ہیں کہ براہین میں جو دلائل کا وعدہ دیا گیا تھا وہ پورا نہیں ہوا۔ حالانکہ براہین میں صداقت اسلام کے واسطے کئی لاکھ دلیل ہے۔ خدا تعالیٰ نے پہلے سے اس میں یہ باتیں لکھوا دی ہیں ۔ کیا ہی شان ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے کہ پہلے زمانہ میں جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفوں کو نامراد اور ذلیل کر کے ہلاک کیا جاتا تھا ایسا ہی آخر میں بھی ہو رہا ہے۔ اس وقت شریروں کی سزا کے واسطے تلوار آنحضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ میں دی گئی تھی اور اس زمانہ میں بدر جلد ۶ نمبر ۱۹ مورخه ۹ رمئی ۱۹۰۷ ء صفحه ۴