ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 142 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 142

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۲ جلد نهم ایک زمانہ دراز سے کبھی نہ ہوئی ہو تو خدا تعالیٰ نے یہ دونوں پہلو پورے کر دیئے ۔ یہ نشان اس طرح متواتر ظہور میں آئے کہ نہ صرف پنجاب بلکہ یورپ اور امریکہ پر بھی حجت قائم ہوگئی یعنی ڈوئی کی موت سے ۔ کیونکہ جب ڈوئی نے کہا کہ میں دعا کرتا ہوں کہ اسلام بالکل تباہ ہو جائے اور امید کرتا ہوں کہ میری دعا قبول ہوگی تو اس وقت میں نے ایک اشتہار شائع کیا اور اس میں ڈوئی سے مباہلہ کیا کہ تو تو حضرت عیسی کو خدا اور عیسائیت کو سچا سمجھتا ہے مگر میں اس کے برخلاف حضرت عیسی کو ایک انسان اور خدا کا نبی مانتا ہوں اور اسلام کو سچا مذہب جانتا ہوں ۔ پس ہم میں سے جو جھوٹا ہوگا وہ سچے کے سامنے مر جائے گا اور میں نے یہ بھی لکھا کہ اگر تو مباہلہ نہ کرے گا تو بھی تو ضرور ہلاک ہوگا۔ اس کے مقابلہ میں ڈوئی نے لکھا کہ میں کیڑوں مکوڑوں کا مقابلہ نہیں کرنا چاہتا اور اگر میں چاہوں تو ان ( مسیح موعود ) کو پاؤں کے نیچے کچل دوں اور یہ ڈوئی امریکہ کا ایک شخص تھا جس کا دعوی تھا کہ میں نبی ہوں اور اس کا اثر امریکہ سے لے کر یورپ تک پڑا تھا اور کہتے ہیں کہ سات کروڑ روپے کا مالک تھا۔ پس اس مباہلہ کے بعد اس کا روپیہ چھینا گیا اور میحون گاؤں جس کو اس نے بسایا تھا اس میں سے نکالا گیا ۔ پھر فالج پڑا اور ایسا پڑا کہ پچکاری سے پاخانہ نکالتے تھے اور آخر کار فروری ۱۹۰۷ ء میں مر ہی گیا۔ پس یہ ایک نشان تھا جس نے تمام یورپ اور امریکہ پر اور سعد اللہ کی موت نے ہندوستان پر حجت قائم کر دی ہے۔ اور یا درکھنا چاہیے کہ یہ شخص بھی ہما را سخت دشمن تھا۔ پس ان دونشانوں اور دوسرے کئی نشانوں نے مل کر دنیا پر خلج کی پیشگوئی کا پورا ہونا ثابت کر دیا۔ اور پھر یہی نہیں اصل الفاظ میں بھی یہ پیشگوئی کھلے طور سے پوری ہو گئی یعنی اس موسم بہار کے موسم میں جیسا کہ لکھا گیا تھا کہ بہار کے موسم میں ایسا ہوگا ۔ ایسی سخت سردی اور بارش اور ژالہ باری ہوئی ہے کہ دنیا چیخ اٹھی ہے۔ جیسا کہ آج (۲۱ مارچ ۱۹۰۷ء) کو بھی بارش ہو رہی ہے اور سخت سردی پڑ رہی ہے۔ پس یا درکھنا چاہیے کہ کیسے کھلے الفاظ میں اور کیسی صریح یہ پیشگوئی تھی جو کہ اپنے ہر ایک پہلو پر پوری ہوئی ۔