ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 143 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 143

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۳ جلد نهم طاعون کا نشان فرمایا کہ ہندوستان میں چاروں طرف طاعون پھیل رہی ہے اور قریباً گیارہ برس ہو گئے کہ یہ مرض یہاں ترقی کر رہا ہے اور اب کے سال تو بہت ہی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ معلوم نہیں کہ کب تک اس کا دور دورہ رہے کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تک لوگ اپنے دلوں کو صاف نہیں کریں گے میں اس مرض کو نہیں ہٹاؤں گا۔ اور باوجود انگریزوں کے زور لگانے کے اس کا اب تک تو علاج کوئی نہیں نکلا۔ ٹیکہ ایجاد کیا وہ بھی ناکارہ ثابت ہوا۔ چوہے مروائے اس سے بھی کچھ فائدہ نہ ہوا ۔ اب مچھر مروانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر طاعون اسی طرح تیزی پر شروع ہے بلکہ اور بھی بڑھ رہا ہے۔ مگر مجھ کو خدا تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ تیرے گھر کی چار دیواری میں رہنے والوں کو اس مرض سے بچاؤں گا اور دیکھو کہ اب تک کئی دفعہ اس نواح میں سخت طاعون پڑ چکی ہے اور گاؤں کے گاؤں خالی ہو گئے ہیں اور خود قادیان میں بھی طاعون کئی دفعہ پڑ چکا ہے مگر اس گھر کو خدا نے بچائے رکھا اور کوئی آدمی بھی اس مرض سے نہیں مرا بلکہ اس گھر کا کوئی چوہا بھی ہلاک نہیں ہوا۔ پس کیا ہی خدا تعالیٰ کا فضل اور رحم ہے !! ۲۸ مارچ ۱۹۰۷ء (بوقت ظهر ) ایک شخص کا خط حضرت اقدس کی خدمت میں پیش ہوا کہ انسان اپنی زندگی میں کس صدقہ جاریہ طرح کا صدقہ جاریہ چھوڑ جائے کہ مرنے کے بعد قیامت تک اس کا ثواب ملتا ر ہے۔ فرمایا کہ قیامت تک کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتے ۔ ہاں ہر ایک عمل انسان کا جو اس کے مرنے کے بعد اس کے آثار دنیا میں قائم رہیں وہ اس کے واسطے موجب ثواب ہوتا ہے۔ مثلاً انسان کا بیٹا ہو اور وہ اسے دین سکھلائے اور دین کا خادم بنائے تو یہ اس کے واسطے صدقہ جاریہ ہے جس کا ثواب اس کو ملتا رہے گا ۔ اعمال نیت پر موقوف ہیں۔ ہر ایک عمل جو نیک نیتی کے ساتھ ایسے طور سے کیا جائے کہ اس کے بعد قائم رہے وہ اس کے واسطے صدقہ جاریہ ہے۔ لے بدر جلد ۶ نمبر ۱۷ مورخه ۲۵ را پریل ۱۹۰۷ ء صفحہ ۶