ملفوظات (جلد 9) — Page 130
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳۰ جلد نهم بات پیش کی گئی ہے جو قطعاً لا جواب ہے۔ آریوں کے واسطے اوّل تو اسی کتاب کا مضمون ہے کہ خود آریہ ہمارے نشانات کے پورا ہونے کے گواہ ہیں جس سے وہ کبھی انکار نہیں کر سکتے ۔ پھر ان کا مسئلہ نیوگ اندر ہی اندر ان کے دلوں کو ملزم اور خوار کر رہا ہے۔ پھر ان کا یہ مذہب کہ خدا کسی کا خالق نہیں وغیرہ ایسی باتیں ظاہر ہوتی ہیں کہ کوئی آر یہ جواب نہیں دے سکتا۔ سکھوں کی ہدایت کے واسطے خدا نے چولا صاحب ظاہر کر دیا ہے جس پر صاف لکھا ہے کہ اسلام کے سوائے کوئی مذہب مقبول نہیں اور اس سے ثابت ہے کہ باوا نانک کا مذہب کیا تھا۔ عیسائیوں کے خدا کی خود قبر ہی نکل آئی ہے اور ہمارے مخالف مسلمانوں پر بھی حجت قائم ہے کیونکہ قرآن شریف حضرت عیسی کی وفات کا قائل ہے اور آنحضرت نے اس کو مردوں میں دیکھا ہے ۔ فرمایا۔ یہ عجب بات ہے کہ مسیح موعود کے لیے نبی لیے نبی ریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام کی کریم صل للہ علیہ سلام نے کریم صلی نے رو مسیح موعود کو سلام کہا ہے اور وصیت کی ہے کہ مسیح موعود کو میر اسلام کہہ دینا۔ اب اگر آنے والا مسیح وہی ہے جو آسمان پر نبیوں کے درمیان موجود ہے تو وہ تو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہو کر دنیا میں آئے گا۔ چاہیے تھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سلام لے کر مسلمانوں کے پاس آتا نہ یہ کہ جب وہ یہاں آوے تو اس جہان کے لوگ اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام پہنچائیں۔ یہ تو وہی مثل ہوئی کہ گھر سے میں آؤں اور خبریں تم سناؤ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ سلام پیغام صاف بتلاتا ہے کہ وہ امت میں سے پیدا ہونے والا ایک شخص ہے جس کی ملاقات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں ہوئی ۔ ہے بدر جلد ۶ نمبر ۱۱ مورخہ ۱۴ مارچ ۱۹۰۷ ء صفحہ ۶ ۲ بدر جلد ۶ نمبر ۱۳ مورخه ۲۸ مارچ ۱۹۰۷ صفحه ۹